فائرنگ میں ایک ہلاک دو زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے علاقے شکارپور کے دامن محلہ میں دو گروہوں میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ سندھ پولیس کے مطابق یہ تصادم مسلم لیگ قاف اور ایک آزاد امیدوار کے حامیوں کے درمیان پولنگ سٹیشن انتالیس کے قریب ہوا۔ پولیس کے مطابق لاش اور زخمیوں کو ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح کراچی میں پولنگ جاری ہے اور شہر کے بعض پولنگ سٹیشنز پر ہلکی نوعیت کے تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ صبح دس بجے تک ووٹ ڈالنے کی رفتار بہت سست رہی۔ پولنگ سٹیشنز پر پولیس اور رینجرز موجود ہیں۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی تاہم کئی پولنگ سٹیشن میں پولنگ ایجنٹ یا الیکشن کے عملہ کے تاخیر سے پہنچنے کی وجہ سے پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی۔ کراچی کے حلقہ این اے دوسو تریپن کے پولنگ سٹیشن گورنمنٹ سندھی بوائز پرائمری سکول جمعہ گوٹھ، بھٹائی آباد میں پولنگ ساڑھے پانچ گھنٹے تاخیر یعنی ڈیڑھ بجے شروع کی گئی ہے۔ پریذائڈنگ افسر کے مطابق پولیس نے الیکشن کے سامان سمیت متعلقہ پولنگ سٹیشن کے بجائے پانچ کلومیٹر دور ایسے اسکول میں اتار دیا جہاں پولنگ سٹیشن ہی نہیں تھا۔ افسر کے مطابق بغیر سکیورٹی کے پولنگ اسٹاف اور انتخابی سامان کو متعلقہ پولنگ تک منتقل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہوا جس کے باعث پولنگ شروع ہونے میں تاخیر ہوگئی۔ اس پولنگ سٹیشن میں اکیس ہزار رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن کی ایک بڑی تعداد پولنگ سٹیشن پر جمع ہونے کے بعد پولنگ سٹاف کے خلاف تاخیر سے پہنچنے پر نعرے بازی کر رہی ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر سندھی بولنے والوں پر مشتمل ہے اور پپلز پارٹی کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ صوبائی حلقہ پی ایس ایک سو انیس کراچی کے علاقے صفورا گوٹھ میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی مومنٹ کے کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی جس کے بعد یہاں ماحول کشیدہ ہوگیا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر بوگس ووٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ صفورا گوٹھ میں پولنگ ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔ صفورا گوٹھ اور پہلوان گوٹھ کے علاقوں میں پٹھان آبادی زیادہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کراچی کے ان علاقوں میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ دونوں کے حامی پشتو بولنے والے ہیں۔
حلقہ این اے 153گلستانِ جوہر کے علاقے پہلوان گوٹھ کے پولنگ سٹیشن میں ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد نظر آرہی ہے جہاں متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور ووٹروں میں جوش و خروش ہے۔ کراچی کے علاقے بنارس کالونی میں لوگوں کی بڑی تعداد پولنگ سٹیشن پہنچی اور ان کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں جبکہ بیشتر علاقوں میں جن میں ناظم آباد، نارتھ کراچی، فیڈرل بی ایریا، گلشنِ اقبال اور دیگر شامل ہیں ووٹ ڈالنے کی شرح بہت کم رہی ہے۔ محمودآباد کے علاقے میں دو گروہوں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کے بعد دو پولنگ سٹیشن پر پولنگ آدھے گھنٹے تک روک دی گئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتحال پر قابو پانے کے بعد پولنگ دوبارہ شروع کرا دی۔ صدر کے علاقے میں کئی پولنگ سٹیشنز پر پولنگ کا عملہ یا پولنگ ایجنٹ تاخیر سے پہنچے جس کی وجہ سے پولنگ کچھ تاخیر سے شروع ہوئی۔ البتہ ووٹ ڈالنے والوں کی شرح صبح دس بجے تک نہایت کم رہی۔ این اے 257 کراچی کے علاقے کورنگی میں مرتضیٰ چورنگی کے قریب ایک پولنگ سٹیشن میں ووٹروں کی بڑی تعداد جمع تھی لیکن عملہ نہ پہنچنے کے باعث وہ مشتعل ہوگئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ وہاں تعینات رینجرز نے ووٹروں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کردیا جس سے چند افراد معمولی زخمی ہوگئے۔ |
اسی بارے میں ’غلطی سے پولنگ سٹیشن تبدیل‘17 February, 2008 | الیکشن 2008 تھرپارکر کے ارباب 08 June, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||