’غلطی سے پولنگ سٹیشن تبدیل‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کے ضلع تھر میں پولیس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دس کے قریب کارکنوں اور حمایتیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ پیپلز پارٹی کا الزام ہے الیکشن سے ایک روز قبل پولنگ سٹیشن اور سٹاف کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں صوبائی امیدوار شرجیل میمن کے چیف پولنگ ایجنٹ اور پارٹی کے ضلعی جنرل سیکریٹری دادن ہنگورو بھی شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مٹھی، ننگرپارکر اور چھاچھرو سے عمل میں آئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ارباب اتحاد پر ان گرفتاریوں کا الزام عائد کیا ہے۔ مٹھی سے پارٹی کے صوبائی امیدوار پیسو مل کا کہنا ہے کہ ستائیس دسمبر سے لیکر آج تک چالیس سے زائد مقدمات دائر کیے گئے ہیں اور ایسا لگتا ہے وہ ارباب کے خلاف نہیں پولیس کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں جو ’ان کے پیچھے پڑی ہوئی ہے‘۔ تاہم مسلم لیگ ق کے حلقے این اے 229 پر امیدوار ارباب ذکااللہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے کہنے پر پولیس نے کوئی گرفتاری نہیں کی ہے۔ ارباب ذکااللہ مطابق لوگوں کے آپس میں تنازعات ہیں جس میں پولیس نے کچھ لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور اس کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تھر کے ضلعی ہیڈ کوراٹر مٹھی میں مسلم لیگ کا انتخابی دفتر مقامی ایس ایچ او کے گھر میں قائم کیا ہے۔ ارباب ذکااللہ کا کہنا تھا کہ یہ جگہ ایس ایچ او کی نہیں بلکہ ان کے بھائی کی ہے جو ان کی برداری سے تعلق رکھتا ہے ایس ایچ او ایک غیر جانبدار شخص ہے۔ دوسری جانب الیکشن سے ایک روز قبل بھی پولنگ سٹاف کو تبدیل کیا گیا ہے، ریٹرننگ افسر عبدالحئی میمن کا کہنا ہے کہ بیمار اور ڈیوٹی پر نہ آنے والے سٹاف کو تبدیل کیا گیا ہے جس کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ اس سٹاف کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ دوسری جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوارن مھیش ملانی، پیسو مل، شرجیل میمن نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعے میں پانچ سے زائد پولنگ سٹیشنوں کو تبدیل کیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی الیکشن افسر کا کہنا ہے غلطی سے یہ سیٹشن تبدیل ہوگئے تھے۔ ڈسٹرکٹ رٹرننگ افسر نے شکایت ملنے کے بعد انہیں واپس بحال کردیا ہے اور اس وقت تمام پولنگ سٹیشن گزٹ کے مطابق ہیں۔ تھر کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے امیدواروں میں مقابلہ ہے۔ ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ اگر وہ ایک نشست بھی ہار گئے تو سیاست سے ریٹائر ہوجائیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ دھاندلی کو ثابت کرتا ہے۔ پورے سندھ میں صرف تھر میں مسلم لیگ ق کے رہنما چودھری پرویز الہٰی نے جلسہ کیا تھا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی یہاں دو جلسۂ عام منعقد کیے گئے تھے، جن سے مخدوم امین فہیم اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے خطاب کیا تھا۔ ضلع میں ووٹروں کی تعداد 4 لاکھ ترانوے ہزار ہے جن کے لیے 380پولنگ سٹیشن بنائے گئے ہیں جبکہ ان میں سے 136 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں تھرپارکر کے ارباب 08 June, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||