’تحفظ ہو تو ٹرن آؤٹ بڑھ سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ان کے آبائی صوبے میں انتخابی سرگرمیاں معمول پر نہیں آسکی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ لوگوں میں پہلے ہی مایوسی تھی اور بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد اس میں شدت آئی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کا خیال ہے کہ اگر تحفظ فراہم کیاگیا تو ٹرن آوٹ پچاس فیصد سے بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت تھی جس نےگزشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے، بینطیر بھٹو کی آمد کے بعد پیپلز پارٹی نے منجمد سیاسی سمندر میں لہریں لانے کی کوشش کی لیکن بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سیاسی منظر نامےمیں ایک مرتبہ پھر خاموشی طاری ہوگئی ہے۔ کیا اس صورتحال میں عام لوگ ووٹ دیں گے یا پولنگ اسٹیشن ویران رہیں گے؟ سینئر سیاست دان معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ ’ آنے والے انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہے گا، لوگ بہت مایوس ہوگئے ہیں، یہاں آٹے، بجلی، بیروزگاری کے بحران اور بیروزگاری میں کچلے ہوئے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ عوام یہ دیکھے کر بھی مایوس ہیں کہ نہ آزاد الیکشن کمیشن ہے نہ ہی آزاد عدلیہ ہے۔فوج نے تمام اداروں کو اپنے بوٹوں تلے روند ڈالا ہے۔ معراج محمد خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ طے کیا ہوا ہے کہ کس جماعت کو کتنے ووٹ ملنے چاہئیں اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ لوگوں کو باہر نکالیں۔ الیکشن کمیشن کےمطابق سندھ میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ انیس سو پچاسی میں ہونےوالے غیرجماعتی انتخابات میں رہا جو چوالیس فیصد تھا، اس کے بعد اس میں کمی ہوتی رہی ہے۔ دو ہزار دو کو ہونے والے انتخابات میں یہ شرح اڑتیس فیصد تھی۔ تجزیہ نگار صحافی منظور میرانی کا کہنا ہے کہ ووٹر کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کیوں جائیں، جس کا واضح جواب آج تک سیاسی جماعتیں نہیں دے سکی ہیں۔ ووٹر کو ووٹ کی اہمیت کے بارے میں آگاہ ہی نہیں کیا گیا اور یہ ہی وجہ ہے کہ ووٹر کا تبدیلی کی طرف رجحان بڑا نہیں ہے۔ منظور میرانی کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ٹرن آوٹ میں اضافہ ہونا چاہیئے مگر ایسے کچھ عوامل ہیں جس وجہ سے ٹرن آوٹ کم ہونے کے امکانات ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جس سے لوگوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے کہا ہے کہ الیکشن میں گڑبڑ کرنے والوں کو فوری گولی ماردی جائےگی اب اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ گڑبڑ کون کر رہا تھا۔اسی نوعیت کا بیان صدر مشرف بھی دے چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر بھی منظور میرانی کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر ووٹر کو تحفظ کا احساس دلوایا جاتا ہے تو ٹرن آوٹ پچاس فیصد سے بھی بڑہ جائے گا مگر ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ تاج حیدر کا کہنا تھا ’لوگوں میں سکیورٹی کا احساس ختم کیا جا رہا ہے، ٹرن آؤٹ اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب پولنگ سٹیشن پر حفاظتی انتظامات ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اس کا نتیجہ تو یہ ہی نکل رہا ہے کہ ہنگامہ آرائی ہوگی اور انتخابات ملتوی کردیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ انتخابات میں سندھ میں ایک کروڑ اکسٹھ لاکھ ووٹ رجسٹرڈ تھے، آنے والے انتخابات کے لیے اس تعداد میں پچاس لاکھ ووٹروں کا اضافہ ہوا ہے مگر ووٹروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ٹرن آوٹ میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ووٹروں نے فیصلہ کرنا ہے‘26 July, 2007 | پاکستان ’ووٹروں کے اندراج کی مہلت کم ہے‘ 13 August, 2007 | پاکستان 2002 الیکشن، دو کروڑ ’بوگس‘ ووٹر05 June, 2007 | پاکستان ’صرف غائب شدہ ووٹرز کا پتہ کریں‘16 August, 2007 | پاکستان ’ووٹر لسٹوں کی اپ ڈیٹ جاری رکھیں‘31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||