چہرے پر مایوسی مگر پیشرفت’مثبت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ججوں کی بحالی کے بارے میں چار رکنی حکومتی اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے فیصلہ کن ’دبئی سربراہی اجلاس‘ میں ابھی حتمی فیصلہ تو جمعرات کو ہونا ہے لیکن تاحال جو فریقین نے تاثر دیا ہے اس سے اختلافات بظاہر تھمتے نظر آ رہے ہیں۔ گزشتہ روز ایک غریب ملک کے رہنماؤں نے عربوں کے دیس میں اربوں روپے مالیت والے فائیو سٹار ہوٹل میں جب فوجی صدر کی حیثیت میں پرویز مشرف کے ( پہلے عبوری آئین کے تحت حلف اٹھانے والے) برطرف کردہ ججوں کی بحالی کے معاملات پر میڈیا سے چھپ چھپا کر بات چیت شروع کی تو انصاف کے ترازو میں امید اور مایوسی کے پلڑے بظاہر برابر دکھائی دیے۔ بدھ کو ججوں کی بحالی پر حتمی بات چیت کے لیے دوپہر کے کھانے پر جب میاں نواز شریف اپنے ساتھیوں سمیت ہوٹل پہنچے تو ان کے میزبان آصف علی زرداری پہلے ہی ہوٹل کی لابی میں پہنچ چکے تھے۔ رحمٰن ملک اور فاروق نائک بھی ان کے ہمراہ تھے اور وہ اپنے مہمانوں کا بے چینی سے انتظار کرتے رہے لیکن دبئی کا ٹریفک میاں نواز شریف کی آمد میں تاخیر کا سبب بنتا رہا۔ میاں نواز شریف اور ان کی ٹیم کا گرمجوشی سے خیر مقدم کے بعد آصف علی زرداری جب انہیں ایک ہال میں لے گئے تو اس کے بعد ہوٹل کے باہر تپتی دھوپ میں پسینہ پونچھتے صحافیوں کو ہوٹل میں داخلہ نصیب ہوا اور جب یہ بن بلائے مہمان (صحافی) ایک لابی میں براجمان ہوئے تو اس پر ہوٹل انتظامیہ کے بہت سارے ملازمین چاہتے ہوئے بھی اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر پائے۔ ہوٹل کے سکیورٹی سے متعلق شعبہ کے ڈائریکٹر اظہر رضا چوہدری نے کہا کہ پہلی بار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد نے ان کے لیے مسئلہ پیدا کیا ہے۔ بات چیت کا پہلا دور جس میں کھانا بھی شامل تھا وہ دو گھنٹے بعد ختم ہوا تو جمائیاں لینے والے صحافیوں کی بریگیڈ نے میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کو گھیر لیا۔ تاہم جب دونوں رہنماؤں نے بتایا کہ ابھی تو وہ غیر رسمی بات چیت سے فارغ ہوئے ہیں اور باضابطہ گفتگو کا دور ابھی شروع ہونا ہے تو بہت سارے صحافی مایوس دکھائی دیے۔ دونوں رہنماؤں کے مذاکرات طول پکڑتے گئے اور جب تقریباً پانچ گھنٹے ہو چلے تو بعض صحافیوں نے شک ظاہر کرنا شروع کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فریقین صحافیوں کو جل دے کر پچھلے دروازے سے چلے گئے ہوں۔ لیکن ایسے خدشات کے دوران چوہدری نثار علی خان جو ججوں کی بحالی کے بارے میں مسلم لیگ کے سخت گیر رہنما سمجھے جاتے ہیں نمودار ہوئے۔ ان کے چہرے پر تو بظاہر مایوسی کے آثار تھے لیکن بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ ’مثبت پیش رفت ہوئی ہے‘۔ جب انہوں نے بتایا کہ کچھ آئینی اور قانونی نکات پر ابھی بات ہونی ہے تو ان کی اس بات کا بعض صحافی یہ مطلب نکالتے سنائی دیے کہ مسلم لیگ نے ججوں کی بحالی کے بارے میں آئینی پیکیج کے قانونی تقاضے کو تسلیم کیا ہے۔ بعض صحافی کہتے رہے کہ آخر چوہدری نثار کو اکیلے بریفنگ کے لیے کیوں بھیجا گیا اور پیپلز پارٹی کا کوئی نمائندہ ان کے ساتھ کیوں نہیں آیا، پیش رفت کا بیان ان سے دلوانے کی کیا وجہ ہے۔ اس طرح کے سوالات کے جواب شاید چند روز میں مل جائیں لیکن دبئی مذاکرات سے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میں سیاسی دوریوں کا جو امکان تھا، اُسے چوہدری نثار علی خان کے ذریعے بریفنگ دلوا کر فی الوقت زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں دبئی مذاکرات طول پکڑ گئے01 May, 2008 | پاکستان ’پیش رفت ہوئی ہے لیکن ابھی اتفاق ہونا باقی ہے‘30 April, 2008 | پاکستان ’دبئی فیصلے کا انتظار کریں گے‘30 April, 2008 | پاکستان ’حقائق چھپانے کی کوشش‘30 April, 2008 | پاکستان مذاکرات میں’تعطل‘، اب نواز دبئی جائیں گے29 April, 2008 | پاکستان ’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ 28 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی آئینی پیکج کے تحت29 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||