’جج: بحالی پر’بڑا‘ اختلاف نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف کے درمیان ججوں کی بحالی کے سلسلے میں فیصلہ کن مذاکرات آج دبئی میں ہو رہے ہیں۔ شہباز شریف وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ اتوار اور سوموار کی درمیانی شب ساڑھے تین بجے کی فلائٹ سے دوبئی کے لیے روانہ ہوئے۔ شہباز شریف نے اپنی روانگی سے قبل لاہور کے ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے اور یہ معاملہ خوش اسلوبی حل ہوجائے گا۔ مسلم لیگ نون کے وفد میں چودھری نثار علی خان، خواجہ آصف اور پنجاب کے نامزد ایڈووکیٹ جنرل خواجہ حارث احمد شامل ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری نے سوموار کو وطن واپس آنا تھا لیکن ان کے دوبئی قیام میں دو سے تین دنوں کی توسیع ہوگئی ہے جس کے بعد مسلم لیگ نون کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ آصف زرداری سے دوبئی میں ملاقات کی جائے اور اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیاکہ تیس دنوں میں ججوں کے بحال نہ ہونے پر مسلم لیگ نون وزارتوں سے الگ ہوجائے گی تو شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اعلان مری کو گواہ بنا کر اتحادی جماعتیں تیس دنوں میں عدلیہ کی بحالی کا انتظام کریں گے۔ شہباز شریف کے بقول اسی ضمن میں اتحادی جماعتیں صلاح مشورے کر رہی ہیں جس کے بعد ججوں کی بحالی کی قرارداد پارلیمان میں پیش کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی تیس دنوں کی مدت مکمل نہیں ہوئی ہے۔اتحادی جماعتوں کے درمیان جو مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے ہیں اور دوبئی روانگی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ججوں کی بحالی پر اختلافات کے بارے میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کوئی بڑا اختلاف نظر نہیں آرہا اور اگر ایسا ہوا تو اس قوم کو اعتماد میں لیا جائےگا۔ انہوں نےاس امید کا اظہار کیاکہ ججوں کی بحالی کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا۔ان کا کہناہے کہ عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے اور اسمبلیوں سے مستعفیْ ہونے کا عدلیہ کے معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول تاخیر سے کام نہیں لیا جا رہا اور اعلان مری کی روشنی میں کام کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر تیس دنوں کی مدت میں کوئی توسیع کی جائے گی۔ تو شہباز شریف نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے ساتھ کھڑے وفاقی وزیر خواجہ آصف کی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان سے مزید سوال کئے جائیں۔
خواجہ آصف نے ایک سوال پر کہا کہ مسلم لیگ نون کو مکمل یقین ہے کہ ججوں کی بحالی کے معاملہ پر پیپلز پارٹی خلوس کے ساتھ ان سے مذاکرات کر رہی ہے اور پیپلز پارٹی کی نیت اور خلوص پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ مبصرین کی رائے ہے کہ ججوں کی بحالی کے لیے قرارداد تیس اپریل تک اسمبلی میں پیش ہونا بظاہر ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر ہوچکا ہے اور نیا اجلاس بلانے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ امکان ہے کہ تیس اپریل کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون یہ اعلان کریں کہ کس تاریخ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس میں قرارداد پیش کی جائے گی۔ خیال رہے کہ وکلا تنظیموں کے مطابق اعلان مری کے تحت ججوں کی بحالی کے لیے تیس دن کی مدت تیس اپریل کو ختم ہو رہی ہے اور وکلاء نے اپنے آئندہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے پاکستان بارکونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس تین مئی کو طلب کر رکھا ہے۔
ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف سے معزول ججوں کی بحالی کے معاملہ پر ملاقات کی۔ رائےونڈفارم پر ہونے والی اس میں ملاقات میں سپریم کورٹ بار کے سابق صدور حامد خان، منیر اے ملک، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کے علاوہ سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں امین جاوید، غلام نبی بھٹی، لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر انور کمال، سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر رشید اے رضوی، لاہور بار کے صدر منظور قادر، اطہر من اللہ اور شکیل ہادی شامل تھے۔ اعتزاز احسن کے بقول نواز شریف نے ملاقات میں یقین دلایا ہے کہ شیڈول کے مطابق تمام معاملات طے ہونگے۔ ان کے مطابق وکلاء رہنماؤں کی نواز شریف کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ تیس اپریل سے پہلے ان جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی جائے گی جہنوں نے اعلان مری پر دستخط کیے تھے تاکہ ان کو اپنے خیالات کے بارے میں آگاہ کریں۔ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید اور لاہور بار کے صدر منظور قادر نے بتایا کہ نواز شریف نے کہا کہ اعلان مری کے تحت تیس دنوں میں جج اپنے عہدوں پر بحال ہونگے ۔ دریں اثناء وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے لاہور میں عدلیہ کی بحالی کے لیے جیل روڈ سے ایک ریلی نکالی اور جلوس کی شکل میں جی او آر میں سپریم کورٹ کےمعزول جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔
ریلی میں شامل افراد نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی تصاویر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے عبارتیں درج تھیں۔ سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل رمدے نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک کا مقصد ججوں کی نوکریاں بحال کرانا نہیں بلکہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی حکمرانی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد بھی وکلاء اپنی تحریک کو جمہوریت کے لیے جاری رکھیں۔ بعدازاں ریلی کے شرکاء گورنر ہاؤس کے باہر کے احتجاجی مظاہرہ کیا اور عدلیہ کے بحالی کے لیے نعرے لگائے۔ | اسی بارے میں ’ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں‘26 April, 2008 | پاکستان ’ججوں کے بحران کے حل کےلیے قرارداد‘27 April, 2008 | پاکستان مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی: بات چیت دبئی میں27 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||