’جج: بحران کے حل کیلیے قرارداد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ قاف کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ اگر حکمران اتحاد ججوں کا مسئلہ حل نہیں کرتا تو ان کی جماعت اس بحران کے حل کے لیے قرارداد لا سکتی ہے۔ اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کا معاملہ کوئی آئینی یا قانونی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے بحران کو حل کیا جائے تاکہ دیگر مسائل کی طرف توجہ دی جاسکے۔ پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین بھی موجود تھے۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا وہ اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔ ان کے بقول ان ججوں کو فارغ کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے آئینی اختیار کے اٹھاون ٹوبی کو ختم کرنے کی حمایت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جب اس آئینی اختیار کے خاتمے کی بات ہوگی تو اس وقت اس بارے میں فیصلہ کریں گے تاہم ان کی رائے میں اٹھاون ٹو بی کو صدر پرویز مشرف کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہئے۔ ایک سوال پر چودھری شجاعت حسین نے واضح کیا کہ صدر پرویز مشرف نے انہیں پارٹی کی صدارت چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ وہ اپنی جماعت کے سربراہ ہیں اور اگست دو ہزار نو تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کونسل کے تین ہزار ارکان کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ قاف کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت میں کوئی فاروڈ بلاک نہیں ہے اور اس حوالے سے باتیں غلط ہیں۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نہ پہلے ٹھیک جمہوریت تھی اور نہ اب ٹھیک جمہوریت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں اصل معنوں میں جمہوریت ہوگی وہاں اٹھاون ٹو بی نہیں ہونی چاہئے۔ چودھری شجاعت حسن نے کہا کہ بلوچستان کے معاملہ پر قائم ہونے والی کمیٹی نے جو سفارشات مرتب کیں تھیں ان پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے حوالے سے سوال پر سید مشاہد حسین نے کہا کہ وفاق کے ایشوز کا حل ڈنڈا نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ چودھری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کےدوران جتنی مہنگائی ہوئی ہے اتنی مہنگائی گزشتہ پانچ برسوں میں نہیں ہوئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ماہ میں معلوم ہوجائے گا کہ اس مہنگائی کا ذمہ دار کون ہے۔ اس موقع پر مسلم لیگ قاف کے سیکرٹری جنرل سید مشاہدہ حسین نے سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جس طرح صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہٹاکر غلطی کی تھی اس طرح اب موجودہ سیکرٹری خارجہ کو ان عہدے سے ہٹاکر غلط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ کے حوالے سے معاملے کو سینیٹ میں اٹھائیں گے۔سید مشاہد حسین نے مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا حوالہ دیا اور کہا کہ سیکرٹری خارجہ کو ان کے عہدے سے اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ ریاض محمد خان نے بینظر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مخالفت کی تھی۔ اس موقع پر ایک سوال پر چودھری شجاعت حسین نے وضاحت کی کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف پرویز الہیْ نے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی اس لیے مخالفت نہیں کی کیونکہ ان کے بقول پھر یہ کہا جاناتھا کہ پرویزالہیْ ذاتی وجوہات کی بنا پر اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ سید مشاہد حسین نےمطالبہ کیا کہ حکمران اتحاد اپنے وعدوں کو پورا کرے یا پھر قوم سے معذرت کرلیں۔ایک سوال پر ان کا کہنا ہے کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہورہا ہے تاہم وزیر خزانہ کو اصل حقائق سے قوم کو آگاہ کرنا چاہئے۔ | اسی بارے میں ’ججز کی بحالی کوئی جرم نہیں‘26 April, 2008 | پاکستان قرارداد پیش نہ ہو سکی،اجلاس ملتوی25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی لازم ہے: ہاشمی25 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، فیصلہ نہیں ہو سکا21 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||