BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی، فیصلہ نہیں ہو سکا

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف
آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان الگ ملاقات بھی ہوئی
ججوں کی بحالی سے متعلق قرارداد اور دیگر اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے حکمراں اتحاد کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے سربراہوں کے درمیان ساڑھےتین گھنٹے کےطویل مذاکرات بغیر کسی فیصلے کے کل تک ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔

پنجاب ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کے علاوہ دیگر اہم پارٹی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

مسلم لیگ کے رہنما صدیق الفاروق نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کے وفد کی سربراہی آصف علی زرداری نے کی جبکہ اس کے دیگر اراکین میں وفاقی وزیراطلاعات شیری رحمان، وزیر قانون فاروق ایچ نائیک، وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک اور خورشید شاہ شامل تھے۔

پنجاب ہاؤس پہنچنے پر ان کا استقبال نواز شریف اور شہباز شریف کے علاوہ مسلم لیگ کے دیگر رہنماؤں جن میں راجہ ظفر الحق اور خواجہ آصف شامل تھے نے کیا۔

صدیق الفاروق نے بتایا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کے درمیان خواجہ آصف اور فاروق نائیک کی موجودگی میں الگ ملاقات بھی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ججوں کی بحالی کی قرار داد اور ایگزیکٹو آرڈر کے موضوع پر ہوئے۔ ’ان کا مقصد یہ تھا کہ اعلانِ مری کو عملی جامہ کیسے پہنایا جائے‘۔

 ججوں کی بحالی کے لیے اس قرار داد کی بھی ضرورت نہیں۔ قانونی ججوں کو کام کرنے سے زبردستی روکا گیا لہذا بحالی کے لیے کسی قرار داد کی ضرورت نہیں
فخر الدین جی ابراہیم

ان کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات ابھی نامکمل ہیں اور منگل کو دو پہر بارہ بجے دوبارہ پنجاب ہاؤس میں منعقد ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا مذاکرات کو ناکام سمجھا جائے تو صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ کوئی جماعت ناکامی کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مری معاہدے پر دستخط کرنے والوں اور حکمراں اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے اس سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما صدیق الفاروق نے کہا کہ یہ ملاقات ان جماعتوں کے درمیان ہے جنہوں نے اعلان مری پر دستخط کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرارداد کی حتمی منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پیش کر دیا جائےگا جس کے بعد حکومت ضروری اقدامات کرے گی۔

صدیق الفاروق نے عوام سے کہا کہ تھوڑی بہت تاخیر سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ حکمراں اتحاد نے اس قرار داد کی تیاری کے لیے فخرالدین جی ابراہیم جیسے سینئر قانون دانوں سے بھی مشاورت کی تھی۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئےفخرالدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے لیے اس قرار داد کی بھی ضرورت نہیں۔ ان کا موقف تھا کہ قانونی ججوں کو کام کرنے سے زبردستی روکا گیا لہذا بحالی کے لیے کسی قرار داد کی ضرورت نہیں۔

قرارداد کا انگریزی زبان میں مسودہ بعض صحافیوں کو دیا گیا جس کے مطابق وفاقی حکومت سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل ایک سو نوے کو استعمال میں لاتے ہوئے ججوں کو دو نومبر والی صورتحال میں بحال کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

قرار داد میں عدلیہ کی بحالی کے لیے شہریوں، وکلاء، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے جدوجہد کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ قرار داد میں عدلیہ کی آذادی اور قانون کی بالادستی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ اس قرار داد کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھائی جائے گی اور کسی جج کو فارغ نہیں کیا جائے گا۔

صدر مشرفججز کی بحالی
صدر مشرف کا اہم اجلاس
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟ججز کی بحالی
حکم نامہ، قرارداد یا اسمبلی کی تحلیل؟
جسٹس افتخار چودھریبحالی میں دیر کیوں؟
ججوں پر حکمران اتحاد میں اختلافات واضح
بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں’آئین سے انحراف‘
نئے حلف آئین سے انحراف: معزول ججز
جسٹس طارق پرویز ’فورا بحال کریں ‘
پارلیمنٹ فوری طور پر ججوں کو بحال کرے
راجہ ظفر الحقتیس دن کی مدت
’ججز تیس دن میں بحال ہو جائیں گے‘
باعزت برخاستگی
حکومت حلف نہ لینے والے ججوں کی باعزت برخاستگی چاہتی ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد