قرارداد پیش نہ ہو سکی،اجلاس ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور توقع کے بر خلاف اس اجلاس میں حکومت کی جانب سے ججوں کی بحالی سے متعلق قرارداد پیش نہیں ہو سکی۔ وکلاء اور ججوں کی بحالی کے منتظر دیگر طبقے توقع کر رہے تھے کہ حکومت اس اجلاس میں ججوں سے متعلق قرارداد پیش پیش کر دے گی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ البتہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایوان کا اجلاس کسی بھی وقت دوبارہ طلب کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی ایاز امیر کا کہنا ہے کہ اجلاس کے التواء سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیس اپریل کی ڈیڈلائن ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ حکمراں اتحاد کی ججوں سے متعلق کمیٹی کا ایک اور اجلاس جمعہ کی شام پارلیمنٹ ہاؤس میں متوقع ہے جس میں ججوں کی بحالی سے متعلق قرارداد اور آئینی پیکج پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔ تاہم مبصرین کے خیال میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے التواء سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر ابھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزیر پیٹرولیم خواجہ آصف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ التواء کوئی حربہ نہیں ہے بلکہ اس معاملے میں حکومت کو عملی مشکلات درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی جماعت بھی اس معاملے کو طول نہیں دینا چاہتی کیونکہ یہ ان سب کے لیے مشکل ہوگا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر کوئی معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو رہا ہو تو اس میں دو چار دن کی تاخیر کوئی بڑی بات نہیں۔ خواجہ آصف نے کمیٹی میں زیر غور معاملات اور اختلافات پر بات کرنے سے انکار کیا اور اس سوال کے جواب میں کہ ججوں والی کمیٹی کب تک متفقہ فیصلے پر پہنچ جائے گی ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاستدان ہیں نجومی نہیں۔ | اسی بارے میں مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج25 April, 2008 | پاکستان ’کوئی مائنس ون فارمولا نہیں‘23 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، کمیٹی کا اجلاس آج 23 April, 2008 | پاکستان ’جج بحال نہ ہوئے تو کابینہ سے باہر‘22 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، فیصلہ نہیں ہو سکا21 April, 2008 | پاکستان بحالی کی قرارداد، وکلاء کی ڈیڈلائن 19 April, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی، اہم فیصلہ آئندہ ہفتے13 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||