مجوزہ قرارداد کے خلاف پٹیشن خارج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد اسلم نے اس درخواست کو خارج کر دیا ہے جو پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحالی کے سلسلےمیں پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی مجوزہ قرارداد کو روکنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ ججوں کی بحالی سے متعلق مجوزہ قرارداد پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی توہین ہے جس کے تحت ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی برطرفی کے اقدام کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ یہ درخواست مولوی اقبال حیدر نے دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ اعلی عدالتوں کے ججوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
آئین کے آرٹیکل ایک سو ننانوے کے تحت یہ درخواست جمعرات کو دائر کی گئی تھی اور عدالت نے اسے سماعت کے لیے منظور کر لیا تھا۔ اس پٹیشن میں قومی اسمبلی کے سپیکر ، ڈپٹی سپیکر اور وزارت قانون کو فریق بنایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اگر ججوں کی بحالی کا معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تو وہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون کے تحت نااہل ہوجائے گا۔ جمعہ کے روز جب اس درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو نہ درخواست گزار اور نہ ہی ان کا وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے یہ درخواست عدم پیروری کی وجہ سے خارج کر دی۔ اسی طرح کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر ہے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ججوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنے اور ایسی درخواستیں پیش کرنے پر کہ جن سے عدالت کا وقت ضائع ہوتا ہے، عمر بھر کے لیے سپریم کورٹ میں مولوی اقبال حیدر کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ | اسی بارے میں ’ججوں کے بحالی معاہدہ کےمطابق‘22 April, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، فیصلہ نہیں ہو سکا21 April, 2008 | پاکستان ’جج بحال نہ ہوئے تو کابینہ سے باہر‘22 April, 2008 | پاکستان 3 مئی کولائحہ عمل بتائیں گے، وکلاء22 April, 2008 | پاکستان صدر کو مانتا ہوں نہ گورنر کو: کھوسہ22 April, 2008 | پاکستان متحدہ،پیپلز پارٹی میں اصولی اتفاق22 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||