BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ججوں کے بحالی معاہدہ کےمطابق‘

معزول چیف جسٹس چودھری افتخار(فائل فوٹو)
تاثر دیا گیا ہے کہ اختلاف کی وجہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ججوں کی بحالی پر مذاکرات میں تعطل دور ہوگیا ہے۔

پنجاب ہاؤس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے مابین ججوں کے معاملے میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں جماعتوں کے درمیان موجود اختلافی امور کو بات چیت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ حکمران اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائے گی جو ججوں کا معاملہ حل کرے گی۔

مذاکرات میں پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت آصف علی زرداری جبکہ مسلم لیگ (ن) کے وفد کی سربراہی نواز شریف نے کی۔

مذاکرات کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف نے کہا کہ اتحادی پارٹیوں کے درمیان ججوں کی بحالی اعلانِ بھوربن کے تحت تیس دن کے اندر ہی ہوگی۔

اس موقع پر آصف علی زرداری نے کہا کہ اتحادی جماعتیں ایسا کام کرنا چاہتی ہیں جو آئندہ نسلوں تک یاد رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کے مسئلے کو بھوربن معاہدے کے تحت حل کیا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے راولپنڈی میں واقع پنجاب ہاؤس میں دوسرے دن کی بات چیت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئی کہی۔

آصف زرداری نے مختصر بیان میں کہا کہ وہ عوام اور وکلاء برادری کو بتانا چاہتے ہیں کہ سیاسی اور جمہوری طاقتیں متحد ہو کر بھوربن معاہدے کے اطلاق کی کوشش کر رہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کی ہماری رائے سے مختلف رائے ہو گی لیکن ان لوگوں کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔

نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی تعطل نہیں ہے اور ڈیڈلاک میں ایسی باتیں نہیں ہوتیں۔

اس سے قبل وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں میں بھوربن معاہدے کے تحت سارے معاملات پر مکمل یکجہتی ہے بشمول معزول ججوں کے۔ ’آج کی بات چیت میں تجاویز پیش کی گئیں اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اتحادی جماعتوں کی کمیٹی وکلاء برادری سے مشوروں کے بعدان تجاویز کو حتمی شکل دی گی۔‘

آصف زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کیا جج صاحبان بحال ہو کر آٹے کی قیمت کم کرا دیں گے۔ ’انصاف مہیا کرنے کے لیے ایک آئینی پیکج کے حق میں ہیں جس سے ہم مطمئن ہوں، ملک مطمئن ہو اور پارلیمنٹ مطمئن ہو کہ انصاف ملے گا۔‘

نواز شریف نے کہا کہ بہت جلد یہ بل پارلیمنٹ میں آ جائے گا اور آئینی پیکج اس کے بعد کی بات ہے۔

الٹی گنتی کے سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ وہ الٹی گنتی کے خلاف ہیں اور اگر الٹی اور سیدھی گنتی مان لیتے تو انہیں سیاست میں اتنی جدوجہد نہ کرنی پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کو دس بارہ روز سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھا گیا تو اس وقت بھی وہ کوئی گنتی کرنا چاہتے تھے تو اس وقت ان کی گنتی نہیں مانی تو اور لوگوں کی کیوں مانوں۔

آصف زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کو نواز شریف نے نہیں بلکہ لغاری نے جیل بھیجا تھا اور مجھے گرفتار فوج نے کیا تھا۔

پیر کے روز پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان ججوں کی بحالی کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے اور ساڑھے تین گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں جماعتوں کے رہنما منگل کے روز ایک بار پھر ملاقات کریں گے جس میں ججوں کو بحال کرنے سے متعلق قرار داد کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی جائے گی۔

آصف علی زرداری نےگزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ صدر مشرف کی جانب سے برطرف کردہ تمام جج بحال کرنے پر اتفاق رائے ہے۔ لیکن اکیس اپریل کو فریقین میں مذاکرات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال نے تاثر دیا تھا کہ فریقین میں اختلافی نکتہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کے علاوہ باقی ججوں کی بحالی کا فارمولہ ماننے کا مطلب یہ ہو گا کہ نو مارچ 2007 کو جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے چھٹکارا حاصل کرنے کی جو کوشش کی تھی اس کو مان لیا گیا۔

اسی بارے میں
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد