BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 April, 2008, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بحالی کی قرارداد، وکلاء کی ڈیڈلائن

وکلاء کی تحریک کو ایک سال سے زائد ہوگیا ہے
وکلاء نے کہا ہے کہ اگر چھبیس اپریل تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کی بحال کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش نہ کی گئی تو پھر وکلاء برادری تیز ترین تحریک چلائے گی جس میں لانگ مارچ بھی شامل ہے۔

سنیچر کو سپریم کورٹ میں پاکستان بار کونسل میں وائس چیئرمین کے انتخابات کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکلاء رہنما حامد حان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اور بالخصوص وزیر قانون کی طرف سے ایسے بیانات آ رہے ہیں جن سے وکلاء برادری میں شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے کوئی نئی حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود وکلاء برادری کو یقین ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل ’دونوں بڑی سیاسی جماعتیں‘ جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون شامل ہیں معاہدہ مری پر عمل درآمد کرتے ہوئے عدلیہ کو دو نومبر سنہ دو ہزار سات کی پوزیشن پر لائیں گی۔

حامد خان نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے جو تیس دن کا وقت دیا گیا تھا اُس میں سے انیس دن گزر گئے ہیں لیکن ابھی تک قومی اسمبلی میں قرارداد پیش نہیں کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ جوں جوں وقت گزر رہا ہے وکلاء کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بار کونسل نائب صدر کا انتخاب
 پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے انتخابات میں اعتزاز احسن گروپ کے حمایتی امیدوار فیض الرحمن کامیاب ہوئے اور انہوں نے سینیٹر لطیف کھوسہ کے حمایت یافتہ اُمیدوار فضل الحق عباسی کو شکست دی۔

حامد خان نے کہا کہ ابھی قرارداد کو اسمبلی میں بھی پیش ہونا ہے، پھر اس پر بحث بھی ہوگی، اس کے بعد اس کو منظور بھی کیا جائے گا جبکہ ان کی بحالی کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کی طرف سے جو بیانات آ رہے ہیں کہ ججوں کی بحالی تیس دن میں ضروری نہیں اس پر وکلاء برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں حامد خان نے کہا کہ انہوں نے اٹارنی جنرل ملک قیوم جو پاکستان بار کونسل کے چیئرمین ہیں کو کبھی بھی اس تنظیم کا چیئرمین قبول نہیں کیا اور نہ ہی انہیں پاکستان بار کونسل کے اجلاس کی صدارت کرنے دی ہے کیونکہ وہ ایک ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے قریبی ساتھی ہیں۔

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک جو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے آئے تھے نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کا واضح موقف ہے اور وہ معاہدہ مری پر عمل درآمد کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑے عرصے کے بعد جمہوریت آئی ہے اور سیاسی جماعتوں نے جو وعدے عوام کے ساتھ کیے ہیں وہ پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور کابینہ کے اجلاس میں ججوں کی بحالی کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی ہے۔

جب وزیر قانون سے پوچھا گیا کہ اگر عدلیہ بحال ہوجاتی ہے تو کیا معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ان کی مقررہ مدت سنہ دوہزار تیرہ تک برقرار رکھیں گے تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات زیر بحث نہیں آئی اور یہ باتیں صرف میڈیا کی حد تک ہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر لطیف کھوسہ نے تیس دنوں کے اندر جج بحال نہ ہونے کی صورت میں وکلاء کی طرف سے ہڑتال کرنے کو پارلیمان کو دھمکی قرار دیا اور کہا کہ جمہوریت میں فیصلے کثرت رائے سے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سازی کے تیس دن کے اندر جج بحال کر دیے جائیں گے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کے انتخابات میں اعتزاز احسن گروپ کے حمایتی امیدوار فیض الرحمن کامیاب ہوئے اور انہوں نے سینیٹر لطیف کھوسہ کے حمایت یافتہ اُمیدوار فضل الحق عباسی کو شکست دی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد