BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 April, 2008, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی

لاہور مظاہرہ
کراچی ہلاکتوں کا الزام صدر مشرف اور ان کے اتحادیوں پر عاید کیا گیا
کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر پنجاب اور سرحد میں وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے واقعہ کا الزام متحدہ قومی موومنٹ پر عائد کیا ہے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وکلاء کی تنظیموں نے یہ مطالبہ عدلیہ کی بحالی کے لیے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں ہونے والے اجلاسوں میں کیاہے۔ پنجاب بار کونسل نے کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔


وکلاء نے پنجاب کے تمام شہروں میں ہڑتال کی اور کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر شدید الفاظ میں مذمت کی۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قرارداد میں ایم کیو ایم کو ایک دہشت گرد قرار دینے کا مطالبہ کیاگیا۔

لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن نے بھی ایک قرارداد کے ذریعے کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کا الزام صدر پرویز مشرف، ایم کیو ایم قائد الطاف حسین، گورنر سندھ عشرت العباد اورایم کیو ایم کے مرکزی رہنما فاروق ستار پر عائد کیا اور ان کے خلاف چوبیس گھنٹوں میں قتل کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

وکلاء جمعہ گیارہ اپریل سے چودہ اپریل تک سوگ منائیں گے اور احتجاجی طور پر عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے الگ الگ اجلاسوں کے بعد وکلاء نے اجتحاجی جلوس نکالا جو پنجاب اسمبلی کے سامنے اختتام پذیر ہوا۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کا جلوس ایوان عدل سے شروع ہوا اور جب یہ جلوس لاہور ہائی کورٹ کےسامنے پہنچا تو اس جلوس میں ہائی کورٹ بار کے وکلاء بھی شامل ہوگئے۔ جلوس اور مظاہروں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی۔

جلوس میں شامل وکلاء نے ایم کیو ایم کے خلاف نعرے گائے۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر صدر پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے درج تھے۔ وکلاء پنجاب اسمبلی کے سامنے اپنے رہنماؤں کے خطاب کے بعد پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین اسلم سندھو نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ صوبے بھر کے وکلاء جمعہ گیارہ اپریل سے چودہ اپریل تک سوگ منائیں گے اور احتجاجی طور پر عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں بار ایسوسی ایشنوں کی عمارتوں پر سیاہ پراچم لہرائے جائیں گے جبکہ وکلاء بازووں پر کالی پٹیاں باندھیں گے۔

اسلم سندھو نے یہ بھی اعلان کیا کہ گیارہ اپریل کو پنجاب بھر میں بار ایسوس ایشنوں کی سطح پر کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے بار کے مستعفی ہونے والے صدر اعتزاز احسن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دو دنوں میں اپنا استعفی واپس لیں۔

جلوس اور مظاہروں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی شرکت کی

سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر دو روز میں اعتزاز احسن نے استعفی واپس نہ لیا تو سپریم کورٹ بار کے دیگر عہدیدار بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

ان کے بقول پاکستان کی دیگر وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں نے بھی یہ اپیل کی ہے کہ اعتزاز احسن اپنا استعفی واپس لیں۔

ادھر صوبہ سرحد میں بھی وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی اور احتجاجی جلوس نکالے۔ پشاور میں بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی گئی اور اس کی واقعہ کی ذمہ داری کا الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا۔

ملک کے دیگر شہروں کی طرح کوئٹہ میں بھی وکلاء نے احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ضلع کہچری سے جلوس نکالا جو شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا کہچری پہنچ کر ختم ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد