عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی، بار اور وکلاء کے دفاتر پر حملوں کے خلاف سندھ بھر میں وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، شہر میں زندگی معمول پر آگئی ہے مگر لوگوں میں خوف ہراس برقرار ہے۔ کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد سندھ ہائی کورٹ بار نے پاکستان بار کونسل سے درخواست کی ہے کہ بارہ اپریل کو منقعد ہونے والا کنونشن چھبیس اپریل تک ملتوی کیا جائے۔ اس کنونشن میں معزول جج صاحبان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ دوسری جانب سول ہسپتال میں زیر علاج ایک زخمی وکیل شہریار عرف شیری زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئے ہیں، وہ کراچی بار کے باہر گولی لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔ طاہر پلازہ میں چھ افراد کی ہلاکت کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ جب کہ چھ میں سے دو کی شناخت دانش اور داور کے نام سے کی گئی ہے۔ پولیس سرجن نے تصدیق کی ہے کہ باقی چار میں سے دو لاشیں خواتین کی ہیں۔ دفتر کے مالک حاجی الطاف عباسی کے اہل خانہ نے ایک لاش پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ وہ الطاف کی ہوسکتی ہے، جس کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ سیمپل لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ بار کی اپیل پر چیف جسٹس افضل سومرو نے جمعرات کو عدالتی کارروائی کو معطل کردیا ہے تاہم ماتحت عدالتوں میں وکلا پیش نہیں ہوئے۔ ملیر اور سٹی کورٹس میں سوگ کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ جہاں دفاتر پر حملے کیے گئے تھے۔ ہائی کورٹ بار کی جنرل باڈی میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کی جائے اور اس میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔
ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے جنرل باڈی کے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل کے واقعات میں بھی وہ ہی لوگ ملوث ہیں جو بارہ مئی کے واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ ان کا مقصد وکلا کو ججوں کے بحالی سے دور رکھنا ہے مگر وہ کتنے لوگوں کو ماریں گے وکلاء اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔ بعد میں ہائی کورٹ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اندرون سندھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ میں بھی ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا۔ دوسری جانب شہر میں معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں، سڑکوں پر صبح کو ٹریفک کم تھا جو بعد میں معمول پر آگیا، جبکہ سکولوں میں حاضری کم رہی۔ دوسری جانب گزشتہ روز ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران مرنے والوں کی تعداد دس ہو گئی ہے۔ ان میں وہ چھ افراد بھی شامل ہیں جن کو ایک وکیل کے دفتر میں زندہ جلا کر ہلاک کیا گیا۔ ان کے علاوہ ایک لاش طاہر پلازہ سے ملی ہے، ایک لاش نمائش چورنگی کے قریب مارے جانے والے کوچ ڈرائیور کی ہے جبکہ ایک اور لاش اس شخص کی ہے جو سائٹ میں فائرنگ کے واقعہ میں مارا گیا۔ کراچی میں ہنگامے اور فائرنگ کے واقعات شہر میں سابق وزیر شیر افگن خان نیازی کی حمایت میں مظاہرے کے بعد ہوئے۔ ایک الگ واقعہ میں کراچی بار کے رہنما نعیم قریشی کے گھر کو نذر آتش کردیا گیا۔گلستان جوہر میں قاسم پریڈ میں واقع اس گھر کو نعیم قریشی نے آجکل کرائے پر دیا ہوا ہے، جس میں ایک سول جج کی رہائش ہے۔ گھر کو نذر آتش کرنے سے پہلے اس جج کے اہل خانہ کو نامعلوم افراد نے کئی گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ اس کے علاوہ کراچی بار کے سابق صدر افتخار جاوید قاضی کے طارق روڈ پر واقع دفتر پر بھی حملہ کر کے توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ شہر میں بدھ رات دیر تک ہنگامہ آرائی جاری تھی جس میں دو درجن سے زائدگاڑیاں نذر آتش کر دی گئیں۔
بدھ میں ہوے والے پر تشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے دس افراد میں سے صرف تین کی شناخت ہو سکی ہے۔ ان کی قادر جان، محمد علی اور جوہر شاہ کے ناموں سے شناخت کی گئی ہے، تاہم چھ افراد کی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ یہ لاشیں کراچی بار کے دفتر کے پیچھے واقع سات منزلہ عمارت کے ایک دفتر سے نکالی گئی تھیں۔ اس عمارت میں کئی وکلاء کے دفاتر ہیں مگر ان میں سے صرف کمرہ نمبر چھ سو سولہ کو آگ لگائی گئی، جس سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ ان لاشوں کو ہپستال پہنچانے والے رضاکار محمد الطاف کا کہنا ہے کہ دفتر کو باہر سے کنڈی لگی ہوئی تھی اس لیے دروازہ اور کھڑکی توڑ کر اند جانا پڑا، اندر آگ ہی آگ نظر آرہی تھی فائر برگیڈ نے جو پانی ڈالا تھا وہ بھی ابل رہا تھا جس وجہ سے پیر جلنے لگے۔ انہوں نے بتایا کہ اندر دفتر کے واش روم سے ایک لاش ملی اور باقی لاشیں ایک دوسرے کمرے سے ملیں مگر ان کی حالت ایسی تھی کہ گل گئی تھیں ہاتھ لگانے سے عضو الگ ہو رہے تھے۔ یہ دفتر لیاری کے رہائشی نوجوان وکیل الطاف عباسی کا ہے، جن سے اب تک ان کے اہل خانہ کا رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ الطاف کے بھائی پرویز عباسی سول ہسپتال میں پریشان حال دکھائی دیے مگر کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر پا رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ موبائل ٹیلیفون پر بھائی سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں مگر فون بند ہے، وہ اسی امید پر قائم ہیں کہ وہ زندہ ہوں۔ ان کے مطابق انہوں نے جو معلومات حاصل کی ہیں اس کے تحت غنڈے اوپر چڑھے تھے اور انہوں نے مخصوص کمروں میں کیمیکل پھینکا اور باہر سے کنڈیاں لگا دیں۔ اس کے بعد دو ڈہائی گھنٹے تک یہ آگ لگی رہی۔ پرویز عباسی کا کہنا تھا کہ لاشیں کوئلہ بن چکی ہیں مگر ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیا کریں ان کی بلڈ پریشر ہائی ہوگیا ہے، والد دل کی مریضہ ہیں والدہ بھی بیمار ہیں گھر سے ٹیلیفون آرہے ہیں، ان کے سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ ان کو کیا جواب دیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بدھ کی شب ایک پریس کانفرنس کی جس میں متحدہ کے وکلاء پر تشدد کا ذمے دار انہوں نے مسلم لیگ نون اور بار کے ذمہ داران کو قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شرپسندوں نے فطری رد عمل کی آڑ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ایک اور سنگین واقعہ رونما ہوا اور طاہر پلازہ میں پانچ پاکستانی شہریوں کو زندہ جلایا گیا۔ یہ بدترین جنونیت ہے اس کے علاوہ اس کو اور کوئی نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔‘ انہوں نے ستائیس دسمبر کے بعد جس طرح غنڈہ عناصر اور مافیا کی طرف سے تخریب کاری ہوئی تھی شہر کے امن کو سبوتاژ کرنے کی جو سازش کی گئی تھی اور قائد آباد میں دوسرا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ اس تسلسل سے یہ تیسرا واقعہ ہے۔ نو منتخب وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا نے واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے اور میڈیا کو بتایا ہے کہ دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کے جان اور مال کے تحفظ کو ہر صورت میں یقینی بنایا جائےگا۔ |
اسی بارے میں کراچی: کئی اعلیٰ پولیس افسر تبدیل09 April, 2008 | پاکستان کراچی:وکلاء میں تصادم، ہنگامے09 April, 2008 | پاکستان وکلاء کی افگن کے ساتھ بدسلوکی08 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||