کراچی: کئی اعلیٰ پولیس افسر تبدیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں ہنگامہ آرائی کے دوران سات افراد کی ہلاکت اور مختلف علاقوں میں سرکاری اور نجی املاک کے علاوہ دو درجن سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے بعد سندھ حکومت نے فوری طور پر بدھ کی رات پولیس کے اعلٰی افسران کے تبادلے کردیے ہیں۔ صوبائی محکمۂ داخلہ کے مطابق کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد کراچی پولیس کے تینوں زونوں کے ڈی آئی جی آپریشنز کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمۂ داخلہ کے اس فیصلے کے مطابق ڈی آئی جی جنوبی جاوید بخاری کی جگہ اقبال محمود، ڈی آئی جی شرقی سلمان سید کی جگہ بشیر میمن اور ڈی آئی جی مغربی فلک خورشید کی جگہ واجد علی درانی کو تعینات کیا گیا ہے۔ کراچی کے جس علاقے یعنی صدر ٹاؤن میں جہاں امن و امان کی صورتحال سب سے زیادہ دگرگوں رہی وہاں کے ایس پی کیپٹن (ریٹائرڈ) طاہر نوید کا بھی تبادلہ کردیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے نومنتخب وزیرِاعلٰی سید قائم علی شاہ کے حلف اٹھانے کے دوسرے ہی روز پولیس میں اعلٰی پیمانے پر پہلی مرتبہ تبادلے کیے گئے ہیں۔ محکمۂ داخلہ کے حکام کے مطابق ان تبادلوں کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جمعرات کو جاری کردیا جائے گا۔ | اسی بارے میں کراچی: وکلاء میں تصادم، ہنگامہ آرائی، سات ہلاک09 April, 2008 | پاکستان سابق وزیر اعلیٰ سندھ جوتےکانشانہ07 April, 2008 | پاکستان آصف زرداری کا وکلاء کو انتباہ 08 April, 2008 | پاکستان جوتا پھینکنے والا شخص گرفتار09 April, 2008 | پاکستان میانوالی میں شدید عوامی رد عمل09 April, 2008 | پاکستان ارباب غلام رحیم کے متنازع بیانات08 April, 2008 | پاکستان عوامی رد عمل یا سوچی سمجھی سازش؟08 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||