BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 April, 2008, 21:11 GMT 02:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ کے خلاف سازش ہورہی ہے‘

جسٹس وجیہ الدین
جسٹس وجیہ الدین نے جنرل مشرف کے خلاف صدارتی الیکشن میں بھی حصہ لیا تھا۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس وجیہ الدین احمد کا کہنا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کو ان کے عہدے سے فارغ نہیں کیا جاتا تو معزول ججوں کی بحالی کوئی بحالی نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے فیصل آباد کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جسٹس وجیہ الدین کے بقول ایک ایسا پیکج تیار کیا جارہا ہے جس کے تحت چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کی معیاد کو تین سال کیا جارہا ہے اور اس پیکج کی وجہ سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال ہونے کے باوجود عہدے سے فارغ ہوجائیں گے کیونکہ ان کی تقرری جون سنہ دو ہزار پانچ میں ہوئی تھی۔

جسٹس وجیہ الدین کے خطاب کے بعد فیصل آباد کے صدر ناصر گورائیہ نے وزیر دفاع چودھری احمد مختار کے اس بیان کے خلاف مذمتی قرارداد متقفہ طور منظور کرلی جس میں وزیر دفاع نے کہا کہ صدر پرویز مشرف قومی اثاثہ ہیں۔ قرارداد میں چودھری احمد مختار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنا یہ بیان فوری طور پر واپس لیں۔ قرارداد کی منظوری کے وقت وکلا نے ’مشرف کا جو یار ہے غددار ہے ،غدردار ہے‘ کے نعرے بھی لگائے۔

جسٹس وجیہ الدین نےالزام عائد کیا کہ عدلیہ کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں اور ان تمام سازشوں کے پیچھے صدر پرویز مشرف کارفرما ہیں۔ان کا کہنا ہے وکلا کسی ایسی پیکج کو قبول نہیں کریں گے جس کا مقصد صدر پرویز مشرف کےاقتدارکو تحفظ دینا ہو۔

جسٹس وجیہ الدین نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بیان سے اتفاق نہیں کیا کہ صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ختم ہونے کے بعد صدر پرویز مشرف کے خلاف موخذاے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان کا موقف ہے کہ موخذاہ اس شخص کا کیا جاتا ہے جو آئین کی بنیاد پر صدر منتخب ہو۔

ان کے بقول صدر پرویز مشرف پی سی او ججوں کے ایک افسوس ناک فیصلہ کے تحت صدر مقرر ہوئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب عدلیہ بحال ہوجائےگی تو عدلیہ کو صدر پرویز مشرف کی اہلیت کے کیس کا از سرنو جائزہ لینا ہوگا۔

جسٹس وجیہ الدین نے کہا کہ آئین کے تحت صدر پرویز مشرف صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں اور اسی وجہ سے ملک میں ایمرجنسی لگاکر پی سی او کے تحت ججوں سے حلف لیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ وکلا یہ باتیں نہیں بھول سکتے۔

ان کے بقول ایسا پیکج لایا جارہا ہے جس کے تحت صدر پرویز مشرف کو دو سے تین سال کی مہلت دی جائے تاکہ اس عرصہ میں کوئی دوسرا وفادار تلاش کرلیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وقت ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا اٹھارہ فروری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ درست تھا یا غلط تاہم ابھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ درست تھا۔

اسی بارے میں
ججز کی بحالی کا کیا ہوگا؟
13 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد