BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 March, 2008, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججز کالونی میں جشن جیسا سماں

جسٹس افتخار چودھری
ججوں کی رہائی کے حکم کے بعد سے جسٹس افتخار چودھری کے گھر کے باہر میلہ لگ گیا
معزول ججوں کی نظربندی کے خاتمے کے اعلان کے بعد اسلام آباد میں ججز کالونی اور بلخصوص معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کی رہائش گاہ کے باہر چوتھے دن بھی جشن کا سا سماں ہے۔

وکلاء برادری اور سول سوسائیٹی کے ارکان جو ان ججوں کی رہائی و بحالی کی مہم میں پیش پیش تھے کی ایک لمبی قطار روزانہ معزول چیف جسٹس سے ملنے کی خاطر باہر نظر آتے ہیں۔

سرکاری ملازمین بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں اور وہ بھی سورج ڈھلنے کے بعد ججز کالونی کا رخ کرتے ہیں اور افتخار محمد چودھری سمیت ان جج صاحبان سے ملاقات کرتے ہیں جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا۔ فوج کے ریٹائرڈ جرنیل بھی معزول چیف جسٹس سے شرف ملاقات حاصل کر رہے ہیں۔ ملنے کے لیے آنے والوں میں اکثریت صدر پرویز مشرف کے مخالفین کی ہے۔

ججوں کی رہائی کے حکم کے بعد سینکڑوں افراد جسٹس افتخار چودھری کے گھر پہنچ گئے

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی اور بعد میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپنے سابق شاگرد صدر پرویز مشرف کے خلاف اپنا غصہ کچھ یوں اتارا’بطور آرمی چیف پاکستانی عوام کے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں اور پارلیمنٹ کو صدر مشرف کا مواخذہ کرنا چاہئیے۔‘

کچھ وکلاء نے تین دن سے معزول چیف جسٹس کے گھر کے سامنے ایک ڈھولچی بٹھا دیا اور جب بھی کوئی جلوس افتخار محمد چوہدری کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے گزرتا ہے تو یہ ڈھولچی ڈھول بجاتے ہوئے ان کی خوشی کو چار چاند لگا دیتا تھا۔

 کچھ وکلاء نے تین دن سے معزول چیف جسٹس کے گھر کے سامنے ایک ڈھولچی بٹھا دیا اور جب بھی کوئی جلوس افتخار محمد چوہدری کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے گزرتا ہے تو یہ ڈھولچی ڈھول بجاتے ہوئے ان کی خوشی کو چار چاند لگا دیتا

ستم ظریفی یہ ہے کہ پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کے مکانات بھی اسی کالونی میں ہیں۔ ان ججوں کو شاید وکلاء برادری کی یہ ادا پسند نہیں آئی اور انہوں نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے ذریعے اسلام آباد پولیس کے افسران کو حکم دیا کہ ججز کالونی میں نعرے بازی اور شور شرابہ نہیں ہونا چاہیے چنانچہ پولیس اہلکاروں نے ڈھولچی کو ہٹا دیا ہے۔

پولیس کے اعلی حکام نے ججز کالونی میں وکلاء کی طرف سے نعرے بازی نہ روکنے پر ڈیوٹی پر مامور ایک پولیس انسپکٹر زوار حسین پر اپنا نزلہ گراتے ہوئے ان کو معطل کردیا۔ پولیس اہلکار کو دوہری مصیبت کا سامنا ہے۔ اگر وہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی طرف سے دیے گئے احکامات کی حکم عدولی کرتے ہیں تو ان کی سرزنش ہوتی ہے اور اگر وکلاء اور سول سوسائیٹی کے ارکان کو نعرے بازی سے روکتے ہیں تو مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔

رہائی کے حکم کے بعد اسلام آبد پولیس نے چیف جسٹس کے گھر کے سامنے خار دار تار سمیت رکاوٹیں ہٹا دیں

پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں کی فیملی کے ارکان شام کے وقت ججز کالونی میں چہل قدمی کیا کرتے تھے لیکن جب سے نئے وزیر اعظم نے معزول ججوں کی نظربندی کو ختم کیا ہے اس کے بعد پی سی او ججوں کے اہلِ خانہ نے چہل قدمی چھوڑ دی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر کے باہر ایک واک تھرو حفاظتی گیٹ نصب کر دیا ہے اور جو کوئی بھی معزول چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے جانا چاہتا ہے اُسے اس گیٹ سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان ججوں کی نظر بندی کے خاتمے کے بعد ججز کالونی کے قریب واقع سندھ ہاؤس اور پنجاب ہاؤس کےملازمین نے بھی سُکھ کا سانس لیا ہے۔کیونکہ گذشتہ چار ماہ سے پولیس اور رینجرز کے اہلکار انہیں بار بار روک کر تلاشی لیتے تھے۔

اب وہاں کچھ پولیس نفری تعینات ہے جبکہ رینجرز کے اہلکار ہٹا لیے گئے۔

راجہ ظفر الحقتیس دن کی مدت
’ججز تیس دن میں بحال ہو جائیں گے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد