بار کونسلوں سے خطاب کا پروگرام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتحار محمد چودھری اکتیس مارچ کو کوئٹہ میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کریں گے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے وکلاء رہنماوں، علی احمد کرد، جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود اور منیر اے ملک کے ہمراہ چیف جسٹس ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے افتخار محمد چودھری سے ملاقات کی۔ معزول چیف جسٹس نے وکلاء رہنماؤں سے ملاقات میں کہا کہ سب سے پہلے وہ اپنے آبائی علاقے کوئٹہ جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جہاں پر وہ دو تین روز قیام کے بعد سکھر جائیں گے اور وہاں پر سکھر بار سے خطاب کریں گے۔ واضح رہے کہ نو مارچ سنہ دوہزار سات میں افتخار محمد چودھری کے خلاف جو صدارتی ریفررنس دائر ہوا تھا اس کے فوراً بعد معزول چیف جسٹس نے پہلا خطاب سکھر بار سے کیا تھا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سکھر بار سے خطاب کے بعد افتخار محمد چودھری کا دوسری بار ایسوسی ایشن سے خطاب کے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے وکلاء کا یہ کہنا تھا کہ معزول چیف جسٹس سب سے پہلے راولپنڈی بار سے خطاب کریں گے۔ منیر اے ملک نے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کا مقصد وکلاء برادری کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں اور جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کو پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے سے بدھ کی شام کو ایک استقبالیے میں ملاقات کریں گے اور انہیں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے جو اُس نقطہ نظر سے مختلف ہوگا جو صدر پرویز مشرف بیرون ممالک دوروں کے دوران ان ججوں کے بارے میں دنیا کو بتاتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کو اپنا نقطہ نظر بہتر طریقے سے بتانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ ذرائع ابلاغ میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا ایک بیان جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی بحالی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایوان صدر میں ججوں کی بحالی کے حوالے سے سازشیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اب ایسی کوئی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر میں دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان طے پانے والے معائدہ مری کو کالعدم قرار دینے کے لیے سازشیں ہو رہی ہیں اس لیے پارلمنٹ کو اس سے چوکنا رہنا چاہیے جبکہ وکلاء برادری پہلے ہی اس سے چوکنا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے تیس دن کا وقت دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیڈروں کے درمیان معائدہ مری میں دیا گیا ہے اور پاکستانی عوام اور بلخصوص وکلاء برادری اس معائدے کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری پارلیمنٹ پر کوئی دباو نہیں ڈالنا چاہتی۔ ادھر وکلاء اور سول سوسائیٹی کے ارکان کی ایک بڑی تعداد چیف جسٹس ہاؤس کے باہر جمع تھی اور وہاں پر جشن کا سماں تھا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||