رکاوٹیں ہٹ گئیں، جج ’آزاد‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے معزول جج صاحبان کی رہائشی کالونی کے داخلی راستوں پر موجود رکاوٹیں ہٹالی گئی ہیں جبکہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ آئین پر عملدرآمد ہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ آئین پر عملدرآمد کرتے ہوئے ملک کے اداروں کو مضبوط کرے گی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ بات نومنتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے معزول ججوں کی رہائی کے’حکم‘ کے بعد اپنے گھر کے دالان میں جمع ہونے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جب پانچ ماہ کی نظر بندی کے بعد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن اور جسٹس (ر) طارق محمود کے ہمراہ اپنے گھر کی بالکونی پر آئے تو ان کےگھر کے اندر اور باہر جمع ہونے والے سینکڑوں افراد نے تالیوں کی گونج میں نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر جسٹس افتخار نے کہا کہ ’آئین سے انحراف بددیانتی ہے۔ انہوں نے تین نومبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف کے اس اقدام سے ملک کی عدلیہ سمیت دیگر اداروں کو شدید نقصان پہنچا ہے‘۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے وکلاء اور سول سوسائٹی کی تحریک کو سراہا اور کہا کہ اگر مستقبل میں آئندہ کبھی اس طرح کی صورتحال پیش آئی تو وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان آئین کی بحالی کے لیے اسی طرح کے اقدامات کریں گے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کی اس تحریک کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے نومنتخب وزیراعظم کا اقدام ایک اہم پیشرفت ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے پارلیمنٹ میں اس بیان کہ گھروں میں نظربند ججوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سینکڑوں افراد ججز کالونی میں معزول چیف جسٹس کے گھر جمع ہوگئے اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ مظاہرین نے جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدام کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیتے ہوئے مشرف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ معزول چیف جسٹس کے گھر کے باہر جشن کا سماں تھا اور مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی افتخار محمد چودھری کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے نومنتخب وزیراعظم کی جانب سے ججوں کی رہائی کے’حکم‘ کے بعد اسلام آباد میں ججز کالونی سے رکاوٹیں ہٹانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے رہائی کے اعلان کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس کے ارکان نے ججز کالونی کے داخلی راستے پر موجود خاردار تاریں اور رکاوٹیں ہٹانی شروع کر دیں اور لوگوں کو جامہ تلاشی کے بعد کالونی میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔ سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس جاوید اقبال بھی افتخار چودھری کو ان کی نظربندی ختم ہونے پر مبارکباد دینے آئے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی جج ہیں اور اگر پارلیمنٹ نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کو بحال کیا تو وہ بھی بحال ہوں گے اور اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ جسٹس جاوید اقبال چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجر بینچ صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف درخواستوں کی سماعت کر رہا تھا کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلٰی عدالتوں کے ساٹھ ججوں کو برطرف کر دیا گیا تھا۔ معزول جسٹس جاوید اقبال کو بھی پہلے گھر میں نظربند کیا ہوا تھا پھر ان کو کوئٹہ لے جایا گیا۔ بعدازاں انہیں پاکستان پریس کونسل کا چیئرمین بنا دیا گیا جو ابھی تک اس عہدے پر کام کر رہے ہیں۔معزول جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی جج ہیں اور پارلیمنٹ کی طرف سے بحال ہونے کے بعد چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ | اسی بارے میں گرفتار ججوں کی رہائی، وزیرِاعظم کا پہلا ’حکم‘24 March, 2008 | پاکستان ’نمائندے مینڈیٹ کا احترام کریں‘20 March, 2008 | پاکستان پاکستان میں وکلاء کا احتجاج جاری20 March, 2008 | پاکستان ’پارلیمنٹ کونہیں روکا جا سکتا‘18 March, 2008 | پاکستان ’ججوں کی بحالی، قرار داد کافی ہے‘16 March, 2008 | پاکستان عدلیہ کی بحالی پر اتفاق09 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||