’صدر مشرف بیرونی دروازے پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں کہ سیاست ممکنات کا فن ہے۔ آج سے ٹھیک ایک سال پندرہ دن قبل اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے آرمی ہاؤس میں جنرل پرویز مشرف سمیت چار فوجی جرنیلوں کو انکار کر کے ’مشرف زدہ‘ سیاسی جماعتوں کو ممکنات کے اس فن سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے ایک ایسا سیاسی سٹیج مہیا کیا کہ آج معتوب سیاستدان اقتدار سنبھالنے کی خوشی میں قومی اسمبلی میں بیٹھ کر ڈیسک بجا رہے ہیں۔ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری چار ماہ بیس روز کی حراست کے بعد اپنی رہائش گاہ کی بالکونی میں اپنے معتقدین کو ہاتھ ہلا کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ پرویز مشرف اپنی فوجی وردی اور حلیف سیاسی جماعت مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی قوت سے محرومی کے بعد اب بقول اعتزاز حسن کے ’باہر جانے والے دروازہ‘ پر کھڑے ہیں۔ جسٹس افتخار چودھری کے ایک’ نو‘ نے پاکستان کی اکسٹھ سالہ عدالتی اور سیاسی تاریخ کو جنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ پہلی بار پاکستانی عوام، وکلاء، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ہوا کہ افتخار چودھری نے وردی میں ملبوس طاقتور جرنیلوں کو انکار کر کے نو مارچ کو ہی ’نظریہ ضرورت‘ کو آرمی ہاؤس میں دفن کر کے عدلیہ کوآمریت کی زنجیروں سے ہمیشہ کے لیے آزاد کرا دیا۔ مگر تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد افتخار چوھری سمیت ساٹھ ججوں کی ’ معزولی‘ اور انکی نظر بندی نے وقتی طور پر لوگوں کے امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ گزشتہ ایک سال پندرہ دنوں کے دوران کئی تاریخی واقعات نے جنم لیا۔ وکلاء کی تحریک نے جنرل ریٹائرڈ مشرف کو اتنا کمزور کر دیا کہ انہوں نے پاکستانی کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن مرحومہ بینظیر بھٹو سے ان کی شرائط پر ڈیل کی۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو قومی مصالحتی آرڈیننس جاری کرنا پڑا اور انیس سو ننانوے تک کرپشن کے تمام کیسز کو ختم کردیاگیا۔ اس گنگا میں پیپلز پارٹی کے حریف اور جنرل ریٹائرڈ مشرف کے حلیف جماعتوں ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور دیگر شخصیات نے بھی اپنے ہاتھ دھو ڈالے۔ افتخار چودھری کے انکار کے نتیجہ میں جو احتجاجی تحریک چلی وہ بلاآخر پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی کی جلاوطن رہنماء بینظیر بھٹو اور مسلم لیگ (ن) کے میاں محمد نواز شرف کی وطن واپسی پر منتج ہوئی اور یہاں سے ہی حکمران مسلم لیگ کا شیرازہ بکھرنا شروع ہوا۔ دونوں سیاسی رہنماؤں کی آمد کیساتھ ہی انتخابات کا اعلان ہوا مگر ساتھ میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے صدارتی انتخابات میں امیدوار بننے کی اہلیت کے بارے میں سپریم کورٹ کے فل بنچ کے فیصلہ سے قبل ہی پرویز مشرف نے تین نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر کے چیف جسٹس افتخار چودھری اور پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے تقریباً ساٹھ ججوں کو معزول کردیا اور یوں انہوں نے خود اپنے پاؤں پر کھلاڑی مار دی جس کے نتیجہ میں لوگوں کو وہ دن بھی دیکھنا نصیب ہوا جب پرویز مشرف نے بڑی نیم دلی کیساتھ طاقت کی چھڑی نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو سونپ دیا۔ دوسری طرف راولپنڈی میں بینظیر بھٹو کی ہلاکت، اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ان کے استقبالی جلوس پر حملہ میں ایک سو پچاس کے قریب لوگوں کی ہلاکت اور بارہ مئی کو کراچی میں پیش آنے والے جیسے واقعات کا محض چند ماہ میں پیش آنا پاکستان کی تاریخ کےناقابل فراموش واقعات ہیں۔ اپنی پہلی تقریر میں نومنتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کہنا پڑا کہ آج کی جمہوریت بینظیر بھٹو کے خون اور سیاسی جدوجہد کے نتیجہ میں نصیب ہوئی ہے۔ نومنتخب وزیر اعظم کی پہلی تقریر میں معزول ججوں کی رہائی کا حکم میاں محمد نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ہونیوالا ’معاہدہ مری‘ پر عملدرآمد کی جانب اٹھائے جانے والا پہلا قدم ہے جبکہ منزل تک پہنچنے کے لیے اب بھی انتیس دن مزید باقی ہیں۔ نئی حکومت اور اٹھاون ٹو بی کے اختیارات کے مالک صدرپرویز مشرف کے درمیان تو باقاعدہ کھیل اب شروع ہوا ہے، سو آئندہ کیا ہوسکتا ہےاس بارے میں سرِدست کہنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ آخر کار’سیاست ممکنات کا ہی فن ہے۔، | اسی بارے میں ’چیف جسٹس کی نظر بندی پر مقدمہ‘03 March, 2008 | پاکستان تمام ججز کو بحال کریں گے: نواز21 February, 2008 | پاکستان چیف جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟20 July, 2007 | پاکستان ’مشرف نے ادارے تباہ کر دیے‘30 January, 2008 | پاکستان ’فوجی حکومت کے خاتمے کی تحریک‘23 July, 2007 | پاکستان ’سپریم کورٹ امید کی علامت بنائیں‘28 July, 2007 | پاکستان نو برس کے بعد نیا آرمی چیف28 November, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار سے سفیر کی ملاقات07 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||