جسٹس افتخار سے سفیر کی ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر علی عواض العسیری نے جمعہ کے روز پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کی جس میں پاکستان کی موجودہ صورت حال اور عدلیہ کے بحران پر بات چیت کی گئی۔ برطرف کیے جانے والے سپریم کورٹ کے سینئر جج رانا بھگوان داس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ سعودی سفیر صبح دس بجے کے قریب ججز کالونی میں آئے تھے اور انہوں نے افتخار محمد چوہدری سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ملاقات آدھ گھنٹہ جاری رہی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملاقات میں جو امور زیر بحث لائے گئے اس کے بارے میں وہ کچھ نہیں بتا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دو بڑوں کی ملاقات تھی اور بڑے لوگ ملاقات میں زیر بحث آنے والے امور نہیں بتاتے۔ تاہم آزاد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی سفیر نے افتخار محمد چوہدری کو موجودہ عدالتی بحران سے پاکستان کو نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں کہا۔ جس پر معزول کیے جانے والے چیف جسٹس نے سعودی سفیر کو بتایا کہ عدالتی بحران صرف اس صورت میں حل ہو سکتا ہے کہ عدلیہ کو تین نومبر سے پہلے والی پوزیشن پر لایا جائے۔ مبصرین سعودی سفیر کی معزول کیے جانے والے چیف جسٹس کے ساتھ ملاقات کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔ بعض مبصرین اس ملاقات سے یہ نتیجہ اخذ کررہے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ سعودی سفیر نے افتخار محمد چوہدری کو سعودی عرب جانے کی پیش کش کی ہو۔ اس ملاقات کے حوالے سے جب دفتر خارجہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر کہا کہ یہ ملاقات دفتر خارجہ نے نہیں کروائی۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ان دیگر ججوں کو جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا تھا گھروں میں محبوس کردیا تھا۔ حکومت نے چیف جسٹس کے گھر کے باہر سکیورٹی انتہائی سخت کر رکھی ہے اور کسی کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس عرصے کے دوران مُلک کے دو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف سمیت وکلاء اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نے افتخار محمد چوہدری سے ملنے کی کوشش کی لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا۔ اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی شب ایوان صدر کی منظوری سے اعلٰی عہدیداروں نے ججز کالونی کا دورہ کیا اور نئے پی سی او کے تحت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے ملاقات کی جو ایک گھنٹہ جاری رہی۔ | اسی بارے میں ’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘06 December, 2007 | پاکستان ’بحالی خیرات میں نہیں مانگتے‘05 December, 2007 | پاکستان صوبوں میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ06 December, 2007 | پاکستان ’آئین بحال تو جج بھی بحال‘05 December, 2007 | پاکستان ’میں آج بھی جج ہوں۔۔۔۔‘08 November, 2007 | پاکستان ’آپ جیسے بزرگوں پر فخر ہے‘30 November, 2007 | پاکستان ججز کی بحالی، کل جماعتی کانفرنس06 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||