عدلیہ کی بحالی، اہم فیصلہ آئندہ ہفتے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مخلوط وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہان آئندہ ہفتے ایک مشترکہ اجلاس میں عدلیہ کے اس بارے میں اہم فیصلے کریں گے۔ اس اجلاس میں عدلیہ کی تین نومبر والی پوزیشن پر بحالی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور ججوں کی بحالی کا طریقۂ کار اور نظام الواقات طے کیے جانے کی بھی توقع ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد عدلیہ کی بحالی کے موضوع پر حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کی یہ پہلی باقاعدہ میٹنگ ہو گی۔ جس میں چند کلیدی نوعیت کے فیصلے کیے جانے کی توقع ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ پنجاب میں حکومت سازی کے بعد آئندہ ہفتے ہونے والے تین بڑوں کے اجلاس میں اس الٹی گنتی کے شروع ہونے کے بارے میں بھی حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ صدیق الفاروق کے مطابق اس بارے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں اختلاف رائے ہے کہ یہ گنتی کب شروع ہو لیکن نواز شریف پیپلز پارٹی کا یہ استدلال ماننے کے لیے بھی تیار ہیں کہ یہ گنتی صوبائی حکومتوں کے قیام کے بعد سے شروع ہو۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی کے بعد اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ پر ہونے والے اس اجلاس میں مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفدیار ولی خان اپنے اپنے وفود کے ہمراہ شریک ہوں گے۔ عدلیہ کی بحالی کے بارے میں جس نکتے پر بحث جاری ہے وہ اس مدت کے تعین سے متعلق ہے جس کے بارے میں مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے طے کیا تھا کہ حکومت کی تشکیل کے تیس روز کے اندر معزول عدلیہ بحال کر دی جائے گی۔ جوں جوں حکومت سازی کے مراحل طے ہوتے گئے، اس بارے میں ابہام گہرا ہوتا گیا کہ یہ تیس روز کب سے شروع ہوں گے۔
صدیق الفاروق کا کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں ایک دو روز میں کابینہ بھی تشکیل پا جائے گی اور اس روز سے یہ گنتی شروع ہو جائے گی۔ جو اہم اور کسی حد تک متنازعہ معاملات اس اہم اجلاس میں زیربحث آنے کی توقع ہے ان میں اس قرارداد کا مسودہ بھی شامل ہے جسے عدلیہ کی بحالی کی بنیادی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔ موجودہ وقت میں ججوں کی بحالی کے لیے ایک سے زائد مسودے موجود ہیں۔ ان میں نواز شریف گروپ اس مسودے کو سب سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے جو سپریم کورٹ کے سابق جج اور معروف قانون دان فخرالدین جی ابراہیم نے تیار کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور قانون دان سینیٹر بابر اعوان کا تسلیم کرتے ہیں کہ اس موضوع پر مخلوط حکومت کے ارکان میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ منگل کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں ان متفرق مسودوں پر غور کر کے کسی ایک پر اتفاق یا ان تینوں کو ملا کر ایک نیا مسودہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک اور معاملہ جس پر غور کیے جانے کی توقع ہے، وہ ججوں کی بحالی کے لیے مناسب فورم کے استعمال سے متعلق ہے۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ ججوں کی بحالی کا کام کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ یہ کمیٹی خصوصی اجلاس میں روایتی اور مروجہ طریقہ کے مطابق اس پر غور کرے، تجاویز تیار کرے، قرارداد کے مسودے کو حتمی شکل دے اور اسکے بعد اسے کابینہ میں پیش کرے جہاں سے منظوری کے بعد اسے پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ اس تجویز کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ آئین اور رولز آف بزنس کے تحت کابینہ ججوں کی بحالی کے لیے نہایت مضبوط قانونی بنیاد اور جواز بن سکتی ہے۔ ایک اور تجویز یہ ہے کہ کابینہ کے بجائے یہ معاملہ پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کے ذریعے ہینڈل کیا جائے۔ اس تجویز کے پیش کار کہتے ہیں کہ چونکہ پارلیمنٹ عوام کا نمائندہ ادارہ ہے اور یہاں جو بھی فیصلہ ہو اسے آئین کے تحت عوامی تائید کا حامل قرار دیا جاتا ہے لہذا پارلیمنٹ کا فیصلہ ناقابل تردید اور تنسیخ قرار پائے گا۔ پاکستان مسلم لیگ کے کوٹے پر وفاقی کابینہ کے رکن بننے والے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ سمجھتی ہے کہ اس موضوع پر کسی کمیٹی کی ضرورت نہیں لیکن اگر پیپلز پارٹی اصرار کرے تو ان کی جماعت اسے وجہ تنازعہ بنانا نہیں چاہتی۔
سعد رفیق کے مطابق اہمیت اس بات کی ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام جج بحال ہوں اور اس کے لیے اگر کابینہ کی چھوٹی سے کمیٹی بن جائے جو چار چھ روز میں اپنی سفارشات تیار کر لے تو ہم ضرورت نہ ہونے کے باوجود اسے تسلیم کر لیں گے کیونکہ ہمیں زیادہ غرض پیڑ گننے سے نہیں بلکہ آم کھانے سے ہے۔ سعد رفیق نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت بھی دونوں پارٹیوں کے ارکان آپس میں اس موضوع پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس سربراہی اجلاس سے پہلے اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز میں، اہم فیصلے کر لیے جائیں گے کیونکہ کوئی بھی فریق اس معاملے کو مزید التوا میں ڈالنے کے حق میں نہیں اور سعد رفیق کے مطابق آئندہ ہفتے ہونے والا تین بڑوں کا یہ اجلاس ججوں کی بحالی کے راستے میں ایک اہم سنگ میل ہوگا تاحال اس بارے میں کسی جانب سے باقاعدہ طور پر تو کوئی رائے سامنے نہیں آئی لیکن ججوں کی بحالی کی تحریک میں شامل وکلا کا اصرار ہے کہ بعض سرکاری حلقے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے علاوہ دیگر تمام جج بحال کرنے کی تجویز لیکر چل رہے ہیں۔ وکلا تحریک کے سرگرم رکن جسٹس ر طارق محمود کے بقول یہ نا قابل عمل تجویز ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس مخلوط حکومت کا اہم ستون ہے۔ اس جماعت کے بارے میں تاثر یہ پایا جاتا تھا کہ وہ شائد ججوں کی بحالی کے معاملے میں اتنی زیادہ پرجوش نہیں ہے۔ تاہم پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان کا کہنا ہے کہ ’اب، یہ کام ہو ہی جائے تو بہتر ہے‘۔ زاہد خان کے مطابق اٹھارہ فروری کے انتخابات میں جن بھی جماعتوں کو ووٹ ملے ہیں وہ مانیں یا نہ مانیں، اصل بات یہی ہے کہ عوام نے ججوں کی بحالی کے حق میں ووٹ دیا ہے اور اب یہ کام حکومتی اتحاد کو کرنا ہی پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||