چائے پلاؤ چائے! | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میزبان کا اچانک آن ٹپکنے والے مہمان سے ملنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔لہذا میزبان نے اپنے ملازم کو آگے کردیا۔ ملازم نے عزت کے ساتھ بن بلائے مہمان کو ڈرائنگ روم میں بٹھاتے ہوئے کہا کہ صاحب ابھی تیار ہو رہے ہیں آپ بتائیے کہ چائے پئیں گے یا ٹھنڈا ؟ مہمان نے کہا کہ ایک اچھی سی چائے پلوادو۔ ملازم الٹے قدموں واپس گیا اور ذرا دیر بعد نمودار ہوا۔ صاحب چائے آپ مکس پیتے ہیں یا دودھ الگ سے لاؤں۔ بھئی مکس ہی پلا دو۔ ملازم جی حضور کہہ کر واپس چلا گیا اور کچھ دیر بعد پھر اندر آیا۔ جناب بیگم صاحبہ پوچھ رہی ہیں کہ آپ چینی لیتے ہیں یا پھیکی چائے پیتے ہیں۔ یہ تم نے اچھا کیا کہ پوچھ لیا! میں چینی نہیں لیتا۔ کچھ دیر بعد ملازم پھر خالی ہاتھ کمرے میں داخل ہوا تو مہمان کی تیوری پر ایک بل پڑگیا۔ معاف کیجئے گا میں بہت ہی بھلکڑ ہوں ۔بیگم صاحبہ نے پوچھا کہ آپ چائے کپ میں پیتے ہیں یا ہمارے صاحب کی طرح مگ میں پیتے ہیں۔ ارے بھئی بیگم صاحبہ سے کہو کہ میں بہت زیادہ چائے نہیں پیتا لہذا کپ میں ہی لے آؤ۔ ملازم ٹھیک ہے سرجی، کہتا ہوا لوٹ گیا اور پھر پردے کے پیچھے سے ابھرا۔ معاف کیجئے گا بس ایک بات اور بتا دیں۔ ہمارے ہاں دیسی کپ بھی ہیں اور میڈ ان چائنا بھی۔ صاحب کےکچھ دوستوں کو ایک طرح کے کپ پسند ہیں تو کئی دوسری طرح کے کپ میں پیتے ہیں۔ آپ کونسے کپ میں چائے نوش فرمائیں گے۔ مہمان نے اپنے لال ہوتے ہوئے چہرے پر رومال پھیرتے ہوئے کہا لاحول ولا قوۃ ۔۔ بھئی کسی بھی کپ میں لے آئیں۔ چلئے دیسی کپ میں ہی لا دیں۔۔۔۔۔ملازم چہرے پر شرمندگی سجائے پھر لوٹ گیا۔اور ذرا دیر بعد پھر داخل ہوا۔ اب کیا ہوا؟ مہمان نے پوچھا۔وہ جی بیگم صاحبہ نے پوچھا ہے کہ ہمارے ہاں دیسی کپ کے دو سیٹ ہیں۔ایک سادہ اور دوسرے پر پھول بنے ہوئے ہیں۔تو آپ ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ ملازم اپنا جملہ پورا کرتا۔ مہمان گھڑی دیکھتا ہوا کھڑا ہوگیا۔ بیگم صاحبہ سے کہنا کہ مجھے ایک اور جگہ پہنچنا ہے۔ انشااللہ میں جلد ہی فرصت سے آؤں گا اور صاحب سے بھی معذرت کر لینا۔ یہ کہتے ہوئے مہمان تیزی سے باہر نکل گیا اور ملازم نے زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ دروازہ بند کردیا۔ بات یہ ہے کہ اگر آپ کی نیت عدلیہ کو دو نومبر کی پوزیشن پر بحال کرنے کی ہے تو پھر کر ڈالیں۔ یہ نہ پوچھیں کہ سب کو بحال کروں یا مائنس ون بحال کروں۔ آئینی پیکیج کے ذریعے بحال کروں یا ایک قرارداد کافی رہے گی ۔ایوان میں بحث کے ذریعے بحال کروں یا سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کرکے۔ موجودہ پی سی او حلف یافتہ ججوں کے ساتھ بحال کروں یا ان کے بغیر۔ آپ کی مرضی کے تیس دن مان کر بحال کروں یا اپنی مرضی کے تیس دن گن کر۔ الاپ شروع ہونے سے قبل بحال کروں یا راگ مکمل ہوتے ہی بحال کردوں۔ وہ اور تھے جو بیزار ہو کر بکتے جھکتے اپنا ہی خون پی کر مروت اور وضع داری کا پاس کرتے ہوئے لوٹ جاتےتھے۔ آج کی جنتا چائے پیے بغیر واپس جانے والی نہیں۔ |
اسی بارے میں نازی گردہ فروش19 August, 2007 | قلم اور کالم ’بھولا اور پولا‘16 September, 2007 | قلم اور کالم ویسٹ اوپن کارنر پلاٹ30 September, 2007 | قلم اور کالم پتنگے جل مرتے ہیں21 October, 2007 | قلم اور کالم پانچ ارب ڈالر کا اسلحہ کس کے لیے؟28 October, 2007 | قلم اور کالم سب سے پہلے پاکستان، کس کا04 November, 2007 | قلم اور کالم خوش قسمت مشرف11 November, 2007 | قلم اور کالم سائے سے کون ڈرے18 November, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||