اپنا ہتھوڑا اپنا سر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجھے پچھلوں کا تو معلوم نہیں البتہ ایوب خان کے آخری دور میں جب کچھ کچھ باتیں سمجھ میں آنے لگیں تو ایک بات تواتر سے سنائی دیتی تھی۔ ’یار اس سے کب جان چھوٹے گی،یہ تو چپک ہی گیا معلوم نہیں کب جائے گا‘۔ بلا آخر یحیٰی خان نے جب خان صاحب ایوب کو اتارا تو کئی لوگوں نے اسے جمہوری تحریک کی فتح اور نئے دور کی نوید قرار دیتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں اور خوشی خوشی ووٹ ڈالا۔ پھر اس طرح کی صدائیں آنے لگیں۔ ’ ہم تو ایوب کو روتے تھے۔اس نے تو زنا و شراب میں پورا ملک ڈبو دیا،معلوم نہیں کون اس سے نجات دلا کر اس کا گریبان پکڑے گا‘۔ اس بار لوگوں کی دعائیں دس برس کے بجائے تین برس میں ہی قبول ہوگئیں اور مشرقی پاکستان اور یحیی خان ایک ساتھ چلے گئے۔ پھر نئے پاکستان کا عوامی راج شروع ہوا۔گلی گلی لڈی اور بھنگڑا۔جیہڑا واوھے اوہی کھاوے ، اج تے ہوگئی بھٹو بھٹو کے نعرے،لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد ووٹر اکتانے لگا۔ ’اس نے تو حد کردی،جانے کی کوئی امید نہیں نظر آتی،ملک کو پولیس سٹیٹ اور مداری کا تماشہ بنا دیا ہے۔اسکی جگہ کالا چور آجائے تو وہ بھی قبول ہوگا‘۔ اور پھر ایک دن بھٹو سے بھی جان چھوٹ گئی،کئی لوگوں نے شکرانے کے نفل پڑھے۔اور سمجھنے لگے گویا دورِ فاروقی شروع ہوگیا۔اب چور کے ہاتھ کٹیں گے، قاضی فوری انصاف کرے گا پورے ملک میں شریعت کی بہار آجائے گی اور پاکستان کی تکمیل کا خواب مکمل ہوجائے گا۔ لیکن چنددنوں بعد پھر ویسی ہی کانا پھونسی شروع ہوگئی۔’ یہ تو ایوب، یحیی اور بھٹو سے بھی بدتر نکلا،اس نے تو پاکستان کو منشیات اور بارود کے ڈھیر پر بٹھا دیا اس نے تو منتخب وزیرِ اعظم کو بھی نہ چھوڑا یا اللہ تجھے اپنا واسطہ اب ظالم کی رسی کھینچ لے اور پھر ایک دن اچانک ظالم ہوا میں ہی ہوا ہوگیا۔ یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر کہ سیاہ رات سے نجات دے دی ۔کئی روز تک لوگوں کو یقین ہی نہیں آیا کہ بہت کچھ بدل گیا ہے۔۔واہ واہ واہ۔۔۔اب بے نظیر دور آئے گا۔مارشل لا کا راستہ بند ہوجائے گا۔ اور پھر وہی منحوس گفتگو شروع ہوگئی۔ ’بڑا مایوس کیا جی اس نے باپ نے تو کال کوٹھڑی میں سمجھوتہ نہیں کیا تھا اس نے تو قاتلوں سے ہاتھ ملا لیا، بس جی کیا کریں بھٹو کا قرض تھا چکا دیا۔اب ہماری توبہ جو آئندہ اس پارٹی کو ووٹ دیں،پتہ نہیں عورت کی حکمرانی کب ختم ہوگی‘۔ اور ایک دن عورت کی حکمرانی ختم ہوگئی اور نواز شریف کی حکمرانی شروع ہوگئی۔ابھی قدم جمنے بھی نہ پائے تھے کہ تبصرے شروع ہوگئے۔ ’ جس کا کونسلر بننے کا آئی کیو تھا وہ وزیرِاعظم بن گیا ہے باتھ روم بھی جانا ہو تو ابا جی سے پوچھ کر جاتا ہے۔اس نے کرلی حکومت اس سے تو بے نظیر ہی اچھی تھی۔ خدا نے پھر دعا سن لی اور پھر بے نظیر آ گئی۔ خدا نے پھر دعا سن لی اور پھر نواز شریف آگئے خدا نے پھر دعا سن لی اور پرویز مشرف کے زریعہ دونوں سے قومِ بنی اسرائیل کونجات دلادی۔ سوائے نواز شریف کی پارٹی کے ہر پارٹی نے نئے روشن خیال اور اعتدال پسند جنرل کا خیرمقدم کیا جس نے ایک سویلین آمر کو ٹھکانے لگادیا۔ اور ڈیڑھ برس بھی نہیں گزرا تھا کہ وہی آسیبی گفتگو شروع ہوگئی۔ ’ اس نے تو ہمیں امریکہ کا غلام بنا دیا دیکھا تم نے کیسا دو نمبر صدارتی ریفرینڈم کروایا ہے اور یہ جمہوریت لایا ہے،جعلی جمہوریت، دیکھو دیکھو عدلیہ کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔عام آدمی تو ترقی کے جھوٹے بوجھ تلے دب کر مرگیا ہے،ابھی اسے صبر نہیں آیا ۔مزید پانچ سال کے لیے مسلط ہوگیا ہے،یا اللہ کچھ کر‘۔ میری اٹھارہ فروری کو پولنگ سٹیشن کا رخ کرنے والے ہر ووٹر سے درخواست ہے کہ پرچی صندوق میں ڈالنے سے پہلے سوچ لے کہ اس دفعہ واقعی باہوش و حواس فیصلہ کررہا ہے یا پہلے کی طرح اس امید پر اپنے ہی سر پر ہتھوڑا مار رہا ہے کہ اللہ فضل کرے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||