’بابا جی اچار ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہائے ہائے۔۔۔ وہ بھی کیا دن تھے جب صدر جنرل پرویز مشرف نے آگرہ میں اٹل بہاری واجپائی سے فیصلہ کن ناکام ملاقات سے قبل ناشتے کی میز پر بھارتی صحافت کے دگجوں سے ملاقات میں انہیں ایسا جیب میں ڈالا کہ بھارتی میڈیا صدر مشرف کی حاضر دماغی اور فراست کی راہ میں سرخ قالین کی طرح بچھ گیا۔ صدر مشرف کشمیر تو نہ لے پائے البتہ واہ واہ سمیٹ کر ضرور اسلام آباد آئے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہی ہوا جو ہو ہی جاتا ہے یعنی صدر مشرف یہ نہ بھانپ سکے کہ خود اعتمادی کی سرحد کہاں ختم ہوتی ہے اور تکبر اور نخوت کی لکیر کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ پھر وہ اس طرح کی زبان بولنے لگے۔ بعض صحافیوں کو سوائے بکواس کے کوئی کام نہیں۔ قاضی حسین احمد پاگل ہیں انہیں معائنہ کروانا چاہئے۔ یہ بلوچستان والے کیا سمجھتے ہیں۔یہ سن ستر نہیں ہے کہ پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ ان کے سر پر ایسی چیز لگے گی کہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے آئی۔ یہ آپ نے سوال کیا ہے۔۔۔۔۔لگتا ہے آپ کا تعلق سندھ سے ہے۔سندھ والے ہی اکثر ایسے سوال کرتے ہیں۔ مجھے پتہ ہے کیا ہوتا ہے۔۔۔۔کئی خواتین اس لئے ریپ ہونے کا شور مچاتی ہیں کہ انہیں کینیڈا یا کسی اور ملک کا ویزا مل جائے۔ افتخار چوہدری کی بات چھوڑیں جی ۔۔۔وہ ایک نااہل اور کرپٹ شخص ہیں۔ یہ مغرب والے فروغ جمہوریت اور انسانی حقوق کے جنون میں مبتلا نہ ہوں۔ہمیں ان کے معیارات تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ چند سابق فوجیوں کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ غیر اہم لوگ ہیں۔ یہ جو یہاں بیٹھ کر پاکستان اور حکومت پر الزام تراشی کرتے ہیں۔انہیں روکنا ہوگا۔ بلکہ اگر ان جیسوں کو دو تین ٹکا دیں تو اچھا ہوگا۔ اپنی اس زباں دانی کے سبب صدر مشرف ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی آنکھوں کا تارہ بن چکے ہیں اور یار لوگوں نے بھی مزے لینے کے لیے جمہوریت، آزاد عدلیہ ، بےنظیر کے قتل، القاعدہ و طالبان کی سرگرمیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ جیسے موضوعات کو ان کی چڑ بنا لیا ہے۔ محلے کے بابے سے ایک شرارتی لڑکے نے پوچھا لگتا ہے صدر مشرف تک یہ قصہ کسی نے نہیں پہنچایا۔ورنہ انکا دورۂ یورپ زرا مختلف ہوتا۔ |
اسی بارے میں مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت11 March, 2007 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||