BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 January, 2008, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بابا جی اچار ہے‘

صدر مشرف
’صدر یہ نہ بھانپ سکے کہ خود اعتمادی کی سرحد کہاں ختم ہے‘
ہائے ہائے۔۔۔ وہ بھی کیا دن تھے جب صدر جنرل پرویز مشرف نے آگرہ میں اٹل بہاری واجپائی سے فیصلہ کن ناکام ملاقات سے قبل ناشتے کی میز پر بھارتی صحافت کے دگجوں سے ملاقات میں انہیں ایسا جیب میں ڈالا کہ بھارتی میڈیا صدر مشرف کی حاضر دماغی اور فراست کی راہ میں سرخ قالین کی طرح بچھ گیا۔ صدر مشرف کشمیر تو نہ لے پائے البتہ واہ واہ سمیٹ کر ضرور اسلام آباد آئے۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا وہی ہوا جو ہو ہی جاتا ہے یعنی صدر مشرف یہ نہ بھانپ سکے کہ خود اعتمادی کی سرحد کہاں ختم ہوتی ہے اور تکبر اور نخوت کی لکیر کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ چنانچہ پھر وہ اس طرح کی زبان بولنے لگے۔

بعض صحافیوں کو سوائے بکواس کے کوئی کام نہیں۔

قاضی حسین احمد پاگل ہیں انہیں معائنہ کروانا چاہئے۔

یہ بلوچستان والے کیا سمجھتے ہیں۔یہ سن ستر نہیں ہے کہ پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ ان کے سر پر ایسی چیز لگے گی کہ پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے آئی۔

یہ آپ نے سوال کیا ہے۔۔۔۔۔لگتا ہے آپ کا تعلق سندھ سے ہے۔سندھ والے ہی اکثر ایسے سوال کرتے ہیں۔

مجھے پتہ ہے کیا ہوتا ہے۔۔۔۔کئی خواتین اس لئے ریپ ہونے کا شور مچاتی ہیں کہ انہیں کینیڈا یا کسی اور ملک کا ویزا مل جائے۔

 اپنی اس زباں دانی کے سبب صدر مشرف ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی آنکھوں کا تارہ بن چکے ہیں اور یار لوگوں نے بھی مزے لینے کے لیے جمہوریت، آزاد عدلیہ ، بےنظیر کے قتل، القاعدہ و طالبان کی سرگرمیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ جیسے موضوعات کو ان کی چڑ بنا لیا ہے۔

افتخار چوہدری کی بات چھوڑیں جی ۔۔۔وہ ایک نااہل اور کرپٹ شخص ہیں۔
میں ایک فوجی ہوں جو جمہوریت اور انسانی حقوق پر پختہ یقین رکھتا ہے۔

یہ مغرب والے فروغ جمہوریت اور انسانی حقوق کے جنون میں مبتلا نہ ہوں۔ہمیں ان کے معیارات تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔

چند سابق فوجیوں کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ غیر اہم لوگ ہیں۔

یہ جو یہاں بیٹھ کر پاکستان اور حکومت پر الزام تراشی کرتے ہیں۔انہیں روکنا ہوگا۔ بلکہ اگر ان جیسوں کو دو تین ٹکا دیں تو اچھا ہوگا۔

اپنی اس زباں دانی کے سبب صدر مشرف ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی آنکھوں کا تارہ بن چکے ہیں اور یار لوگوں نے بھی مزے لینے کے لیے جمہوریت، آزاد عدلیہ ، بےنظیر کے قتل، القاعدہ و طالبان کی سرگرمیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ جیسے موضوعات کو ان کی چڑ بنا لیا ہے۔

محلے کے بابے سے ایک شرارتی لڑکے نے پوچھا
بابا جی اچار ہے
بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا، نہیں پتر میرے پاس اچار کہاں۔
اگلے دن ایک اور لونڈے نے پوچھا با با جی اچار ہے
او ئے پتر تمہیں کس نے کہا کہ میرے پاس اچار ہوتا ہے
تیسرے دن ایک اور لڑکے نے پوچھا
باباجی سنا ہے آپ کے پاس اچار ہوتا ہے۔
اوئے تم نے تو میری چڑ ہی بنالی ہے۔اپنے باپ سے جا کے پوچھ کمینے۔۔۔۔
اگلے دن ایک اور لڑکا قریب سے گذرا اور ہلکے سے کہا بابا جی۔۔۔
بابا جی نے پوری بات سنے بغیر ہی پتھر اٹھا لیا اور تیری تو۔۔۔ کہہ کر پیچھے دوڑ پڑے۔

لگتا ہے صدر مشرف تک یہ قصہ کسی نے نہیں پہنچایا۔ورنہ انکا دورۂ یورپ زرا مختلف ہوتا۔

تین پرویز
تین پرویزوں کی دوستی کی سبق آموز کہانی
قصور بینظیر بھٹو کا
مشرف کے بیان کی روشنی میں تحقیقات اب بےمقصد
 جنرل مشرف مشرف پھنس گئے
جنرل مشرف نے صدر مشرف پر الزام لگائے۔
بات سے باتپتنگے جل مرتے ہیں
کارکن کی حیثیت کب پتنگوں سے زیادہ تھی
جنرل مشرفآٹھ سال بعد بھی
سب سے پہلے پاکستان، پر اس سے پہلے ’میں‘
آزادی کے ساٹھ سال
سٹھیائے نہ تو پاکستان، بھارت فائدے میں رہینگے
بات سے باتبگٹی کی بیلنس شیٹ
قلات میں سرادری جرگے اور تقاریر کا کیا ہوا؟
اسی بارے میں
مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان
01 April, 2007 | قلم اور کالم
گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت
18 March, 2007 | قلم اور کالم
غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ
09 July, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد