قصور بینظیر کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نےامریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کوانٹرویو دیتے ہوئے اور باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بینظیر بھٹو اپنی موت کی خود ذمہ دار ہیں۔انہیں گاڑی سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔ صدر کے اس ارشاد کی روشنی میں نہ صرف بینظیر کیس بلکہ کئی دیگر تاریخی معمے بھی حل ہوگئے ہیں۔مثلاً خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب اگر نمازِ فجر کے لیے مسجد جانے سے مستقل پرہیز کرتے تو کبھی بھی ایرانی غلام ابولولو فیروز کے خنجر کا شکار نہ ہوتے۔ حضرت علیٰ علیہ السلام نےاس واقعہ کے باوجود احتیاط نہ برتی اور محافظوں کے بغیر مسجد جاتے رہے۔ ظاہر ہے انہیں ایک نہ ایک روز ابنِ ملجم کے زہر میں بجھے خنجر کا نشانہ تو بننا ہی تھا۔ گاندھی جی کو آخر کیا پڑی تھی کہ انہوں نے ہر کس و ناکس کے لیے اپنا دروازہ کھول رکھا تھا۔اس بے احتیاطی کے بعد یہ کہنا سراسر زیادتی ہے کہ جن سنگھی نتھو رام گوڈسے کے پستول سے نکلنے والی گولیاں گاندھی جی کے قتل کی ذمہ دار ہیں۔
لیاقت علی خان کو کیا سوجھی کہ سولہ اکتوبر انیس سو اکاون کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں بھرے جلسے سے خطاب کے شوق میں سید اکبر کے ریوالور کے سامنے آگئے۔اسی لیے آج تک لیاقت علی کے قتل کا ذمہ دار سوائے ان کے کوئی اور نہ ٹھہرایا جا سکا۔ ضیا الحق کو کس حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو سی ون تھرٹی طیارے میں سفر کریں۔شاید اسی لیے آج تک ان کی موت کا ذمہ دار خود انہیں سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح مرتضٰی بھٹو کو یہ کیا سوجھی کہ وہ بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو اپنے گھر لوٹتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بن گئے۔کیا وہ اگلے دن تک واپسی کے لیے صبر نہیں کرسکتے تھے۔شاید اسی لیے آج تک ان کے قتل کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی گئی۔ اور اب سے چھ ماہ قبل سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا اگر اپنے ہی گھر کے بیڈ روم میں سونے سے پرھیز کرتے تو آج ہمارے درمیان ہوتے۔ اور خود صدر مشرف کو چودہ دسمبر دو ہزار تین کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر سے گزرنے کی کیوں ضرورت پڑی۔اگر پل کے ساتھ ساتھ خدانخواستہ ان کی گاڑی بھی اڑ جاتی تو ذمہ دار کون ہوتا۔ لگتا ہے کہ صدر مشرف کو اسوقت کسی نے یہ بتانے کی جرات نہیں کی کہ غلطی آپ کی ہے ورنہ اس حملے کے دس روز بعد پچیس دسمبر کو سڑک پر نکل کر دوسرے خودکش حملے کا نشانہ نہ بنتے۔ ہمیں حیرت ہے کہ صدر کی غلطی پکڑنے کے بجائے تحقیقاتی ایجنسیوں نے آٹھ افراد کو نہ صرف پکڑا بلکہ کورٹ مارشل کے ذریعے ان میں سے پانچ کو سزائے موت اور تین کو سزائے قید بھی سنا دی گئی۔ لیکن اب جبکہ صدر پرویز مشرف اس نتیجے پر پہنچ ہی گئے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا قتل خود بینظیر کی غلطی کے سبب ہوا ہے تو یہ بحث فضول ہے کہ انہیں بیت اللہ محسود نے مارا، کسی ایجنسی کا شکار ہوئیں یا اپنوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ صدر کو چاہیے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو بھی اب جلد از جلد روانہ کردیں تاکہ قوم اور قومی خزانہ اور زیربار نہ ہوں۔ |
اسی بارے میں مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت11 March, 2007 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||