جب روٹی کی قیمت چار روپے ہو جائے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آٹا بہت مہنگا ہو گیا ہے، بازار میں روٹی کی قیمت چار روپے ہو گئی ہے۔ بجلی کی شدید قلت ہے، گرمیوں میں تو پہروں بجلی نہیں آتی۔ ہوا میں آلودگی بڑھ گئی ہے، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ پینے کا صاف پانی صرف سترہ فیصد لوگوں کو ملتا ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سرکاری پرائمری سکولوں میں سے بیاسی ہزار میں نہ لیٹرین ہے نہ چار دیواری۔ مکتب جانے والی عمر کے کروڑوں بچے یا سکول گئے ہی نہیں یا خواندہ ہونے سے پہلے سکول چھوڑ گئے۔ یہ سب کیا ہے اور کس وجہ سے ایسا ہو رہا ہے؟ ہر روز بے شمار مائیں زچگی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں خصوصاً اور شہروں میں عموماً طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قابل علاج امراض میں مبتلا لوگ بڑی آسانی سے مر جاتے ہیں۔ ہر لحاظ سے پاکستان دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے مگر یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار کروڑ اور غیرسرکاری اندازوں کے مطابق آٹھ کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ روزگار تنگ ہے، آبادی زیادہ ہے، کارخانے بجائے بڑھنے کے کم ہوئے ہیں، زرعی پیداوار میں اضافے کی خاطرخواہ کوششیں نہیں ہوئیں۔ الغرض بھوک ہے، ننگ ہے، افلاس ہے، بیماری ہے اور یہ سب کیوں ہے؟ کون ذمہ دار ہے اس سب کا؟
ملک کے تمام ادارے، اگر تمام نہیں تو بیشتر غیرفعال، غیرمستعد، نااہل اور بدعنوان افراد کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔ کوئی کوئی تو جان جان آفریں کے سپرد بھی کر چکا ہے۔ کچھ بستر علالت پر ہیں اور ان کا جانبر ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ کچھ ادارے ایسے ہیں جو اپنا کام کرنے کے بجائے کچھ اور کام کر رہے ہیں۔ کچھ بالکل فارغ ہیں۔ بہرکیف معاملات اچھے نہیں ہیں اور یہ کیوں ہے؟ کون ہے اس سب کا ذمہ دار؟ قارئین! میری ناچیز رائے میں یہ سب للو اور ماجھے کا کیا دھرا ہے۔ یہ دونوں ہی حالات کی اس درجہ خرابی کے اور ہماری تباہ حالی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے دستور، قانون اور سماجی اقدار کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے غربت میں اضافے کو روکنے اور باعزت روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اگر کیا بھی تو پہلے سے امیر ہوتے ہوئے لوگوں کی امارت میں اضافہ کیا اور ایک جعلی متوسط طبقہ پیدا کیا جو غیرترقیاتی اور غیرپیداواری سرگرمیوں پر مبنی معاشی کھیل کود میں حصہ لیتا ہے۔ للو اور ماجھے کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ وہ دہشت گردی سے بھی ہمیں نہیں بچا سکے۔ للو اور مانجھے کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہمارے دکھوں اور مصائب میں اضافہ نہیں کرنا چایے تھا۔ ہماری ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری ان ہی کی تھی، یہ ان کا کام تھا۔ یہ ذمہ داری اخلاقی نہیں قانونی تھی۔ انہیں اپنا کام مستعدی، فرض شناسی اور ایمانداری سے کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے نہیں کیا۔ للو اور ماجھے تم سے اللہ ہی انصاف کرے گا۔ | اسی بارے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے08 June, 2007 | پاکستان پینشنروں کے مسائل پر از خود نوٹس29 June, 2007 | پاکستان ’افراطِ زر پر قابو نہیں پایا جا سکا‘02 June, 2007 | پاکستان تین پرویز16 November, 2007 | قلم اور کالم پہلے پاکستان پر اس سے پہلے ’میں‘15 November, 2007 | قلم اور کالم خوش قسمت مشرف11 November, 2007 | قلم اور کالم صدرکی شیلف لائف خاتمےکےقریب10 November, 2007 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||