صدرکی شیلف لائف خاتمےکےقریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
محترمہ کی آزادی پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے سیاسی نظریات جو بھی ہوں لیکن ان کی موجودگی میں خبروں کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ کبھی ان کی گرفتاری کی خبر آجاتی ہے کبھی ان کی رہائی کی، کبھی وہ صدر مشرف سے سمجھوتے کرنے لگتی ہیں کبھی انہیں چیلنج کرنے لگتی ہیں۔ غرض کہ جدھر جاتی ہیں جو کرتی ہیں وہ سب خبر بن جاتی ہے۔ کل دن بھر میں ان سے متعلق تین خبریں آئیں۔پاکستان کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بینظیر کو ان کی حفاظت کی خاطر راولپنڈی جانے سے روک دیا گیا اور انہیں ان کی رہائش گاہ پر تین دن کے لیے نظر بند کردیا گیا ہے، اس لیے کہ حکومت کی اطلاع کے مطابق راولپنڈی میں کچھ دہشت گرد داخل ہوگئے تھے اور ظاہر ہے کہ ان کا ارادہ نیک تو نہیں ہوسکتا ۔ اب غور فرمائیے کہ محترمہ کے مطابق وہ بالکل آزاد تھیں اور پاکستانی حکومت کے بیان سے اندازہ ہوا کہ اسے ان کی حفاظت کی فکر خود ان سے بھی زیادہ ہے اور امریکی بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ محترمہ کی سیاسی کامیابی کا بیڑا اس نے اٹھا لیا ہے اور اس کی راہ میں جو بھی رکاوٹ پیدا ہوگی اسے دور کرنے کے لیے وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔ پرویز الٰہی کا انکشاف دوسری جانب پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب پرویز الٰہی نے انکشاف کیا ہے کہ بینظیر چاہتی ہیں کہ عام انتخابات ایک سال کے لیے موخر کر دیے جائیں جبکہ وہ اور ان کی جماعت 15 فروری سے پہلے انتخابات کرانا چاہتے ہیں۔پھر انہوں نے اپنے اس عزم کااعادہ بھی کیا ہے کہ عام انتخابات میں وہ پیپلز پارٹی کو کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔پرویز الٰہی کے اس انکشاف نے صورتحال کو کچھ اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صدر پرویز کی شیلف لائف
ایک اخباری اطلاع کے مطابق جناب صدر نے ایمرجنسی سے پہلے امریکہ سے رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ وہ اسے دو ہفتے سے زیادہ طول نہیں دینگے لیکن اخبار کے مطابق امریکہ نے دو ہفتے کے لیے بھی ایمرجنسی کی حمایت نہیں کی اور پاکستان میں امریکی مشورے کے بغیر کچھ کرنا ایک بڑاخطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسےان کو اپنے اقتدار کی’ شیلف لائف‘ یعنی افادی زندگی ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب وہ جتنے بھی داؤ پیچ لگا لیں اپنی وہ حیثیت یا طاقت شاید واپس نہ حاصل کر سکیں جو 3 نومبر سے پہلے تھی۔ انہیں اقتدار میں رہنے کے لیے اب سودے بازی کرنی پڑےگی اور برابری کی بنیاد پر تو شاید مشکل ہو ، دب کر ہی کرنی پڑےگی۔ ہمارے ایک صحافی دوست کا خیال ہے کہ یہاں اقتدار میں آنا اور اقتدار سے جانا کسی آئین، قانون اور اصول کے تابع نہیں ہوتا بلکہ ایک صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں کوئی اقتدار میں آ جاتا ہے اور کوئی چلا جاتا ہے۔ اب جنرل مشرف کے اقتدار میں آنے سے پہلے کون جانتا تھا کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے ہیں لیکن دیکھیے کس طمطراق سے اقتدار میں آئے اور ماشااللہ آٹھ سال کا عرصہ اس شان سے گزارا کہ کیا کوئی آمر یا بادشاہ گزارےگا۔ جس کو دل چاہا وزیراعظم بنوا دیا، جس کو دل چاہا اتاردیا۔ کوئی جلاوطنی سے واپس آیا تو ائرپورٹ سے ہی واپس کرا دیا ، کسی کو جلاوطنی سے واپسی پر ایسی سہولتیں فراہم کیں کہ خود اس کے لیے وبال جان بن گئیں۔ نہ کوئی جواب طلبی کا اندیشہ، نہ کسی پرسش کا خوف۔
بس غلطی یہ ہوگئی کہ جوش میں ہوش نہیں رہا، اور چومکھی لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ غائب افراد کے لواحقین تو پہلے سے ہی رو رہے تھے، ججوں ، وکلاء، میڈیا اور انسانی حقوق کمیشن سے بھی بگاڑ لی۔ اب آپ غور فرمائیے اگر مصالحت کی بات ہوئی تو کس کس سے کرنی پڑےگی۔ ہر آدمی سے جو اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اس سے ایسی غلطی ہوتی ہے۔ نپولین ، ہٹلر، میسولینی، جاپان کے مارشل ٹوجو، چلی کے پنوشے ان سب کا المیہ یہی تھا کہ وہ ایک مرحلے پر آ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کرگئے اور یہیں سے ان کے زوال کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ صدر مشرف کے زوال کا بھی سلسلہ شروع ہوچکا ہے لیکن ان کے لب ولہجے میں اس کّروفر کی کمی یقینی محسوس ہوتی ہے جو ایک زمانے میں ان کا طرۂ امتیاز تھی۔ پاکستان کا جوہری پروگرام اور امریکہ اب جب سے بینظیر پاکستان آئی ہیں پھر یہ مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ حال ہی میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز لفٹینٹ جنرل کارٹر ہیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان کا جوہری اسلحہ امریکہ کی تشویش کا بنیاد سبب بن گیا ہے اور ہم اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکہ کو غالباً خطرہ ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک میں جوہری اسلحہ اس کے مخالف دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے جس سے اس کا تحفظ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس کو یہ سوچنا چاہیے کہ دنیا میں اور بھی ممالک ہیں جن کے پاس جوہری اسلحہ ہے، خود اس کے پاس ماشااللہ بےحد و حساب ہے اور پاکستان کے جوہری اسلحہ میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ دہشت گرد اسے ہی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، کہیں سے بھی حاصل کر سکتے ہیں، آخر نائین الیون کے سانحے میں ملوث طیارے کسی اور ملک سے تو نہیں آئے تھے امریکی ہوائی اڈوں سے ہی اڑے تھے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ امریکہ کی حمایت یا سرپرستی پاکستان کی ان سیاسی جماعتوں یا شخصیات کو ہی حاصل ہوگی جو اس کو یقین دلادیں کہ وہ جوہری اسلحہ کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اگر کبھی انہوں نے اس میں کمزوری محسوس کی تو اس سے مدد مانگنے میں تکلف نہیں کرینگی، چنانچہ اس کی ساری کوشش یہ کہ کسی طرح صدر پرویز مشرف اور بینظیر میں معاملہ بن جائے اس لیے کہ اس کے نزدیک جوہری اسلحہ کی حفاظت اور دہشت گردوں کی سرکوبی کے سلسلے میں فی الوقت ان ہی دونوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں صحافیوں کا احتجاج، وزیر کی پٹائی29 September, 2007 | پاکستان وکلاء تحریک نہیں رکے گی: کرد 29 September, 2007 | پاکستان وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ29 September, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ: عدالت کے باہر کے مناظر 29 September, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ اخبارات کی شہ سرخیوں میں29 September, 2007 | پاکستان انتخابی عمل کا پرتشدد آغاز29 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||