چودھریوں کی طرف لانگ مارچ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو کا آئین کی بحالی کے لیے تیرہ نومبر کو لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ ملک میں جمہوری جدوجہد کے لیے آبِ نو بن کر آیا ہے۔ کسی بھی پاکستانی مبصر کو شاید ہی اس بات سے انکار ہو کہ اگر بینظیر بھٹو یہ فیصلہ نہ کرتیں تو وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے جاری بحالی جمہوریت کی تحریک کسی بھی لمحے دم توڑ سکتی تھی۔ لیکن پی پی پی کے لانگ مارچ کے فیصلے نے نہ صرف پاکستان میں جمہوری جدوجہد کو ایک نئی زندگی دی ہے بلکہ ایک فوجی صدر، ان کے سیاسی حمایتیوں، وکلاء، سول سوسائٹی، حزب اختلاف اور انتہا پسندوں میں بٹی ہوئی پاکستان کی سیاست کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ بینظیر بھٹو کا فیصلہ دراصل صدر جنرل پرویز مشرف اور گـجرات کے چودھریوں کے بیچ آٹھ سالہ اتحاد پر پہلا باقاعدہ وار ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے بہت پہلے ہی یہ واضح ہو چکا تھا کہ جنرل مشرف اور چودھری برادران کی سیاست میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ جنرل مشرف کی خواہش تھی کہ آنے والے انتخابات سے پہلے ہی پاکستان مسلم لیگ قاف اور پی پی پی کے بیچ ان کے صدارتی منصب کی حمایت میں اتحاد ہو جائے۔
اس خواہش کا اظہار انہوں نے چودھری برادران سے بھی بار بار کیا، کئی دفعہ ان کو دھمکایا، ڈانٹا، ان کی منت کی۔ لیکن اس وقت تک وہ اپنی سیاست مکمل طور پر چودھریوں کے حوالے کر چکے تھے اس لیے ان کی ایک نہ چلی۔ مصدقہ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے پیچھے جو سوچ تھی وہ فوجی سوچ نہیں تھی بلکہ سارا پلان چودھریوں کے مشورے سے بنا تھا۔ بینظیر بھٹو نے منگل کے روز اسلام آباد پہنچ کر صحافیوں سے جو بھی گفتگو کی اس سے یہی عندیہ ملا کہ وہ اب بھی جنرل مشرف کو پی پی پی مخالف سیاست کا حصہ نہیں سمجھتیں لیکن وہ اس نتیجے پر یقیناً پہنچ چکی ہیں کہ انہیں جنرل مشرف کے لیے مسلم لیگ قاف کی سیاست کو ناقابل قبول بنانا ہوگا۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ان کا نو نومبر کا راولپنڈی والا جلسہ اور تیرہ نومبر کو لاہور سے ہونے والا لانگ مارچ دونوں پنجاب حکومت کی عملداری میں پلان کیے گئے ہیں جہاں منگل کو ہی ہر قسم کے جلسے جلوس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اب اگر چودھری برادران پی پی پی کا جلسہ اور لانگ مارچ ہونے دیتے ہیں تو ان کے اپنے سیاسی گڑھ میں بینظیر بھٹو کی مقبولیت کی دھاک بیٹھ جائے گی۔اس وقت پی پی پی کے ورکر کو اپنے پیچھے امریکہ اور اپنے سامنے اقتدار نظر آ رہا ہے اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو ایک دفعہ پھر ہزارہا ورکر اکٹھے کر لیں گی۔ لیکن اگر ان کو جلسہ یا لانگ مارچ کرنے سے روکا گیا تو پھر پنجاب بھر میں سیاسی فسادات بھڑک اٹھنے کا خطرہ ہے اور ایسی صورتحال میں جنرل مشرف پر خود اپنے ادارے سے اتنا دباؤ پڑے گا کہ وہ چودھریوں کے پر کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اصولی سیاست کے پیمانے پر ناپا جائے تو بینظیر بھٹو شاید دس میں دو نمبر بھی نہ حاصل کر پائیں لیکن موقع پرستی کی سیاست میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نو برس پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود وہ پاکستانی سیاست میں کلیدی کردار ادا نہ کر سکتیں۔ جلسے اور لانگ مارچ کے اعلان سے بینظیر بھٹو نے صدر جنرل پرویز مشرف کو واضح پیغام بھیجا ہے کے ان کا سیاسی مستقبل سندھ کی ماروی سے جڑا ہے نا کہ پنجاب کے قیدو سے۔ |
اسی بارے میں جنرل مشرف کے لیے ایک نئی جنگ؟12 July, 2007 | پاکستان صدر جنرل پرویز مشرف چھوٹے ہو کر کیا بنیں گے؟02 October, 2007 | پاکستان کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان حکمت عملی، لائحہ عمل اور خودکش حملے30 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||