BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 21:22 GMT 02:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افراطِ زر پر قابو نہیں پایا جا سکا‘

وزیرِ خزانہ عمر ایوب و مشیرِ خزانہ سلمان شاہ
گزشتہ بجٹ میں افراطِ زر کی شرح کا ہدف چھ فیصد مقرر کیا گیا تھا
وزیرِاعظم پاکستان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا ہے کہ اس سال کے بجٹ میں افراط زر کی شرح کا ہدف چھ اعشاریہ پانچ فیصد رکھا جائےگا۔

سنیچر کو لاہور میں بجٹ 2008-2007 پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سلمان شاہ نے تسلیم کیا کہ حکومت گزشتہ سال کے چھ فیصد کے ہدف کو حاصل نہیں کر سکی اور گزشتہ مالی سال میں افراطِ زر کی شرح سات اعشاریہ پانچ سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ زیادہ تر اشیائے خوردنی میں ہوا جس کی ایک وجہ گزشتہ برس آنے والا سیلاب تھا۔ انہوں نے کہا سیلاب آنے سے فصلوں کو جو نقصان پہنچا وہ بھی دالیں اور دوسری اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا۔

ڈاکٹر سلمان شاہ کا کہنا تھا کہ اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں یہ اضافہ پوری دنیا میں ہو رہا ہے جس میں انہوں نے خاص طور پر برطانیہ کی مثال دی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ دینے کے لیے بھی قیمتوں کی حد زیادہ مقرر کرتی ہے۔ خاص طور پر گنے کی فصل کی بابت انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بہتری کے لیے اس کی قیمت زیادہ رکھی گئی اور اس کا نقصان خریدار کو ہوا لیکن حکومت کو یہ توازن رکھنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا افراط زر کی شرح کا ترکی،برازیل، کولمبیا اور بھارت سے موازنہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ سب معاشی ترقی پر گامزن ہیں اور ان سب ممالک میں بھارت کو چھوڑ کر پاکستان میں افراط زر کی شرح سب سے کم ہے۔

بجٹ میں مالیاتی خسارہ چار فیصد تک ہوگا جبکہ دفاعی اخراجات کو تین فیصد سے کم رکھا جائے گا۔اس برس بجٹ میں مختلف ترقیاتی پروگراموں کے لیے 724 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں 520 حکومت براہ راست خرچ کرے گی 204 ارب روپے دوسرے ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے۔
سلمان شاہ

ڈاکٹر سلمان شاہ نے یہ تو کہا کہ اس سال فصل اچھی ہونے سے آٹا اور دالوں وغیرہ کی قیمت کم ہو گی تاہم انہوں نے اس بجٹ میں مہنگائی کم کرنے کے لیے کسے خاص منصوبے کا ذکر نہیں کیا۔ البتہ انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتوں کا کام ہے کہ وہ کسان کی براہ راست مارکیٹ تک رسائی کروائیں تاکہ مڈل مین کا کردار کم ہو۔

بجٹ سنہ 2008-2007 کے اہم نکات بتاتے ہوئے ڈاکٹر سلمان نے کہا کہ اس بجٹ کا تخمینہ تقریبا ایک اعشاریہ نو ٹریلین روپے سے دو ٹریلین روپے تک ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالکل صحیح اعدادوشمار اس وقت ہی واضح ہوں گے جب بجٹ اسمبلی میں پیش ہوگا۔

ان کے مطابق اس بجٹ میں مالیاتی خسارہ چار فیصد تک ہوگا جبکہ دفاعی اخراجات کو تین فیصد سے کم رکھا جائے گا۔ سلمان شاہ کے مطابق اس برس بجٹ میں مختلف ترقیاتی پروگراموں کے لیے 724 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں 520 حکومت براہ راست خرچ کرے گی 204 ارب روپے دوسرے ذرائع سے حاصل کیے جائیں گے۔

 گزشتہ حکومتوں نے بھاری شرح سود پر یہ قرضے لیے تھے جو اب موجودہ حکومت کو ادا کرنے پڑ رہے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو سماجی شعبے کی ترقی میں زیادہ خرچ کیا جا سکتا تھا۔

اس کے علاوہ حکومتی اور نجی شعبے کے اشتراک سے ترقیاتی پروگرام شروع کیے جائیں گے اور ڈاکٹر سلمان شاہ کے بقول یہ ایک نیا نظریہ ہے اور اس سے بجٹ پر بوجھ بھی کم ہو گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کہ اگلے دو تین سال حکومت کو قرضوں کی ادائیگی کا ایک بڑا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔ انہوں نے سابقہ حکومتوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے بھاری شرح سود پر یہ قرضے لیے تھے جو اب موجودہ حکومت کو ادا کرنے پڑ رہے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو سماجی شعبے کی ترقی میں زیادہ خرچ کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس بجٹ میں تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی بھی تجاویز ہیں۔

اس سیمینار میں خطاب کے دوران ڈاکٹر سلمان شاہ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کے سبب معاشی ترقی کی بہت زیادہ تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے سبب کل قومی پیداوار کی شرح سات فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے اور یہ اضافہ تمام شعبوں میں ہوا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور یہ اب چھ بلین ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ ہماری بقا اسی میں ہے کہ ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں۔ ان سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ جب مہنگائی بہت زیادہ ہونے کے سبب عام آدمی کی قوت خرید کم ہو رہی ہے اور غریب آدمی کو اس معاشی ترقی کے اعدادو شمار سے کوئی غرض نہیں ان عوامل سے حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے اس کے لیے حکومت بجٹ میں کیا اقدامات کرے گی ؟ انہوں نے کہا کہ یہ ذرائع ابلاغ کا کام ہے کہ لوگوں کو حکومت کے معاشی ترقی کے کاموں سے آگاہ کرے تاہم مہنگائی پر قابو پانے کےضمن میں کوئی ٹھوس اقدامات کی بابت انہوں نے کوئی قابل ذکر لائحہ عمل نہیں بتایا۔

اسی بارے میں
سونےکی درآمد میں کمی
01 May, 2007 | پاکستان
پنجاب کو مالی بحران کا سامنا
26 December, 2006 | پاکستان
حکومتی ارکان کو خصوصی فنڈز
19 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد