’ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب آٹا نایاب ہوجائے۔اس وقت زراعت سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا الاپ سننے کو کس کم بخت کا جی چاہتا ہے۔ جب بجلی عنقا ہو اس وقت تھرپارکر کے لاکھوں ٹن کوئلے کے ذخائر اور جلد ہی بڑے بڑے ڈیموں کی تعمیر کی کہانی بالکل مزہ نہیں دیتی۔ جب چولہے میں اچانک گیس کا شعلہ مردہ پڑ جائے اور توے پر روٹی آدھی کچی رہ جائے اور جب سی این جی سٹیشنز کے باہر گاڑیوں کی میل میل بھر طویل دوہری قطاریں ہوں اس وقت ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن کی خبر مزے لے لے کر نہیں سنانی چاہیے۔ اور جب قبائلی علاقوں میں فوجی اسلحے کے چار ٹرک دن دھاڑے غائب ہو جائیں ان کی بازیابی تک ٹی وی سکرین پر غوری میزائل کے ایک اور کامیاب تجربے کی خبر ایک اور مزاحیہ آئٹم لگتی ہے۔ بقول حضرت علی’بے وقت کا مذاق دشمنی کا سبب بن سکتا ہے‘۔مگر کیا کیا جائے کہ جس طرح باز سے کبوتر یا گدھے سے گھوڑا نہیں بنایا جا سکتا اسی طرح کوئی بھی آمر ایک خاص راستے سے ہٹ کر نہیں چل سکتا۔ چند روز قبل ایک سرکردہ پاکستانی اخبار ڈان کے ایک کالم میں سر باسل ہنری لڈل ہارٹ کی معروف کتاب ’ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے‘ کا تذکرہ کیا گیا۔ کتاب میں طریقِ آمریت پر بھی بحث کی گئی ہے۔ اس کے مطابق تمام خود ساختہ آمر ایک لگے بندھے راستے پر چلتے ہیں۔ان کا دعوٰی ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک کرنے کے لیے انہیں ایک مختصر عرصے کے لیے مکمل اختیارات درکار ہیں مگر مختصر عرصے کی تشریح بھی وہ خود ہی کرنا پسند کرتے ہیں۔ برسرِ اقتدار آتے ہی آمر اپنے ان کلیدی ساتھیوں کی چھٹی کروا دیتا ہے جن کی مدد سے وہ کرسی پر بیٹھتا ہے کیونکہ کرسی پر بیٹھتے ہی کسی ایک دن اس پر منکشف ہوتا ہے کہ جس طرح کا نظام وہ تشکیل دینا چاھتا ہے اس میں یہ لوگ مس فٹ ہیں اور یوں وہ اس کے خلاف سازش کر سکتے ہیں۔ ہر آمر بہانے بہانے اپنے ناقدوں کا منہ بند رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر حقائق سچائی پر بھی مبنی ہوں تب بھی وہ قابلِ قبول نہیں ہوتے کیونکہ یہ اس کی آمرانہ پالیسیوں سے متصادم ہوتے ہیں چنانچہ وہ ان کا سامنا کرنے کے بجائے حقائق نگار پر برس پڑتا ہے۔ سب آمر چاہتے ہیں کہ مذہبی لابی ان کی ہمنوا ہوجائے۔اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر وہ اپنی ہمنوا متوازی لابی تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمام آمر من پسند تعمیراتی منصوبوں کے لئے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیتے ہیں اور اقتصادی پوزیشن بہتر نظر آئے اس کے لیے اقتصادی حقائق کی توڑ مروڑ سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان سب باتوں کا بالاخر کیا نتیجہ نکلتا ہے۔یہ سب جانتے ہیں سوائے آمر کے۔ یقین نہیں آتا کہ سر باسل ہنری لڈل ہارٹ کی یہ کتاب’ ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے‘ انیس سو چوالیس میں شائع ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان01 April, 2007 | قلم اور کالم گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت11 March, 2007 | قلم اور کالم غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ09 July, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||