BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے‘

صدر مشرف
’کوئی بھی آمر ایک خاص راستے سے ہٹ کر نہیں چل سکتا‘
جب آٹا نایاب ہوجائے۔اس وقت زراعت سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کا الاپ سننے کو کس کم بخت کا جی چاہتا ہے۔

جب بجلی عنقا ہو اس وقت تھرپارکر کے لاکھوں ٹن کوئلے کے ذخائر اور جلد ہی بڑے بڑے ڈیموں کی تعمیر کی کہانی بالکل مزہ نہیں دیتی۔

جب چولہے میں اچانک گیس کا شعلہ مردہ پڑ جائے اور توے پر روٹی آدھی کچی رہ جائے اور جب سی این جی سٹیشنز کے باہر گاڑیوں کی میل میل بھر طویل دوہری قطاریں ہوں اس وقت ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن کی خبر مزے لے لے کر نہیں سنانی چاہیے۔

اور جب قبائلی علاقوں میں فوجی اسلحے کے چار ٹرک دن دھاڑے غائب ہو جائیں ان کی بازیابی تک ٹی وی سکرین پر غوری میزائل کے ایک اور کامیاب تجربے کی خبر ایک اور مزاحیہ آئٹم لگتی ہے۔

بقول حضرت علی’بے وقت کا مذاق دشمنی کا سبب بن سکتا ہے‘۔مگر کیا کیا جائے کہ جس طرح باز سے کبوتر یا گدھے سے گھوڑا نہیں بنایا جا سکتا اسی طرح کوئی بھی آمر ایک خاص راستے سے ہٹ کر نہیں چل سکتا۔

چند روز قبل ایک سرکردہ پاکستانی اخبار ڈان کے ایک کالم میں سر باسل ہنری لڈل ہارٹ کی معروف کتاب ’ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے‘ کا تذکرہ کیا گیا۔

 جب بجلی عنقا ہو اس وقت تھرپارکر کے لاکھوں ٹن کوئلے کے ذخائر اور جلد ہی بڑے بڑے ڈیموں کی تعمیر کی کہانی بالکل مزہ نہیں دیتی۔جب چولہے میں اچانک گیس کا شعلہ مردہ پڑ جائے اور توے پر روٹی آدھی کچی رہ جائے اور جب سی این جی سٹیشنز کے باہر گاڑیوں کی میل میل بھر طویل دوہری قطاریں ہوں اس وقت ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن کی خبر مزے لے لے کر نہیں سنانی چاہیے۔

کتاب میں طریقِ آمریت پر بھی بحث کی گئی ہے۔ اس کے مطابق تمام خود ساختہ آمر ایک لگے بندھے راستے پر چلتے ہیں۔ان کا دعوٰی ہوتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک کرنے کے لیے انہیں ایک مختصر عرصے کے لیے مکمل اختیارات درکار ہیں مگر مختصر عرصے کی تشریح بھی وہ خود ہی کرنا پسند کرتے ہیں۔

برسرِ اقتدار آتے ہی آمر اپنے ان کلیدی ساتھیوں کی چھٹی کروا دیتا ہے جن کی مدد سے وہ کرسی پر بیٹھتا ہے کیونکہ کرسی پر بیٹھتے ہی کسی ایک دن اس پر منکشف ہوتا ہے کہ جس طرح کا نظام وہ تشکیل دینا چاھتا ہے اس میں یہ لوگ مس فٹ ہیں اور یوں وہ اس کے خلاف سازش کر سکتے ہیں۔

ہر آمر بہانے بہانے اپنے ناقدوں کا منہ بند رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اگر حقائق سچائی پر بھی مبنی ہوں تب بھی وہ قابلِ قبول نہیں ہوتے کیونکہ یہ اس کی آمرانہ پالیسیوں سے متصادم ہوتے ہیں چنانچہ وہ ان کا سامنا کرنے کے بجائے حقائق نگار پر برس پڑتا ہے۔

سب آمر چاہتے ہیں کہ مذہبی لابی ان کی ہمنوا ہوجائے۔اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر وہ اپنی ہمنوا متوازی لابی تشکیل دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ تمام آمر من پسند تعمیراتی منصوبوں کے لئے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیتے ہیں اور اقتصادی پوزیشن بہتر نظر آئے اس کے لیے اقتصادی حقائق کی توڑ مروڑ سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ان سب باتوں کا بالاخر کیا نتیجہ نکلتا ہے۔یہ سب جانتے ہیں سوائے آمر کے۔ یقین نہیں آتا کہ سر باسل ہنری لڈل ہارٹ کی یہ کتاب’ ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے‘ انیس سو چوالیس میں شائع ہوئی تھی۔

تین پرویز
تین پرویزوں کی دوستی کی سبق آموز کہانی
قصور بینظیر بھٹو کا
مشرف کے بیان کی روشنی میں تحقیقات اب بےمقصد
 جنرل مشرف مشرف پھنس گئے
جنرل مشرف نے صدر مشرف پر الزام لگائے۔
بات سے باتپتنگے جل مرتے ہیں
کارکن کی حیثیت کب پتنگوں سے زیادہ تھی
جنرل مشرفآٹھ سال بعد بھی
سب سے پہلے پاکستان، پر اس سے پہلے ’میں‘
آزادی کے ساٹھ سال
سٹھیائے نہ تو پاکستان، بھارت فائدے میں رہینگے
بات سے باتبگٹی کی بیلنس شیٹ
قلات میں سرادری جرگے اور تقاریر کا کیا ہوا؟
اسی بارے میں
مجھے کچھ ہوگیا ہے: وسعت اللہ خان
01 April, 2007 | قلم اور کالم
گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت
18 March, 2007 | قلم اور کالم
غزہ کی چھ سالہ این فرینک کا نوحہ
09 July, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد