سائے سے کون ڈرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سب ڈر رہے ہیں ایک دوسرے سے- جان نیگرو پونٹے اس بھیانک خواب سے کہ اگر انتشار بڑھ گیا تو دہشت گردی کے خلاف جنگ تو گئی جہنم میں۔ ان دس، بیس، پچاس جوہری ہتھیاروں کا کیا ہوگا جو اس وقت پاکستان کے کسی مال خانے میں پڑے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف اس تصور سے کہ ایمرجنسی اٹھانے سے کھلے انکار کے بعد نیگرو پونٹے واشنگٹن میں کیا رپورٹ دیتے ہیں۔ چاہے وہ ویتنام ہو،ہنڈوراس ہو یا اقوامِ متحدہ یا عراق کی سفارت،یا پھر امریکی انٹیلی جینس اداروں کی اجتماعی کمانداری یا سٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں نائب وزارتِ خارجہ ہو۔ سب جانتے ہیں کہ نیگرو پونٹے وہ سبز قدم بیورو کریٹ ہیں جن کے پاؤں پچھلے چالیس برس میں جہاں بھی پڑے وہاں پھرگھاس نہ اگی، ستائیس اکتوبر انیس سو اٹھاون کو جو کچھ اسکندر مرزا کے ساتھ ہوا،پچیس مارچ انیس سو انہتر کو جو کچھ ایوب خان کے ساتھ ہوا وہ تیسری بار بھی تو ہوسکتا ہے نا۔۔۔۔۔۔ سب ڈر رہے ہیں ایک دوسرے سے بے نظیر بھٹو اپوزیشن جماعتوں سے جنہیں اس بار بھی ساتھ لے کر چلنا مجبوری ہے اور ساتھ نہ چلنا بھی مجبوری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بےنظیر سے جو کل پھر اپنی دوکان بڑھا سکتی ہیں جیسے انیس سو اٹھاسی میں ایم آر ڈی کو پیچھے چھوڑ دیا گیا تھا۔ جیسے بابے نصراللہ خان کے پیروں تلے سے صدارتی امیدواری کا قالین کھینچا گیا تھا۔ جیسے ایک ہاتھ سے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے جارہے تھے تو دوسرا ہاتھ پرویز مشرف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جیسے صدارتی انتخاب میں امیدوار بھی کھڑا کیا گیا اور پھر بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ سب ڈر رہے ہیں ایک دوسرے سے اے آر ڈی والے اے آر ڈی والوں سے سب کو آگے بھی بڑھنے کا شوق ہے اور مڑ مڑ کر اپنے اپنے کاندھوں سے پیچھے بھی دیکھنا ہے کہ کہیں کوئی رہ تو نہیں گیا، بیٹھ تو نہیں گیا، رفوچکر تو نہیں ہوگیا، غیر سے ہاتھ تو نہیں ملا لیا، کسی کو آنکھ تو نہیں ٹکا دی۔۔۔۔۔۔۔ سب ڈر رہے ہیں ایک دوسرے سے حاکم جج سے سب ڈر رہے ہیں ایک دوسرے سے اگر نہیں ڈر رہا تو وہ ہے سڑک پر رواں آدمیکبھی روتے ہوئے، کبھی ہنستے ہوئے، خود کلامی میں مگن چلتے ہوئے۔کبھی سامان سر پر اٹھائے تو کبھی آسمان سر پر اٹھائے۔ | اسی بارے میں گھر سے اٹھا ہے فتنہ: وسعت18 March, 2007 | قلم اور کالم ’انسانی جج کا بھلا کیا بھروسہ‘: وسعت11 March, 2007 | قلم اور کالم ’ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے‘01 August, 2006 | قلم اور کالم ایشور لال کا خط12 August, 2007 | قلم اور کالم مہمان نوازی کا بھگتان28 March, 2004 | قلم اور کالم ہزار سال پہلے، پچاس برس بعد22 August, 2004 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||