کراچی کے واقعات پر وکلاء احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں بدھ کے روز ہونے والی ہنگامہ آرائی، بار اور وکلاء کے دفاتر پر حملوں اور گیارہ افراد کی ہلاکت کے خلاف سندھ بھر میں وکلاء نے دوسرے روز بھی عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ جاری رکھا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس میں وکلاء نے ہلاک ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے غائبانہ جنازہ نماز ادا کی اور جنرل باڈی کے اجلاس منعقد کیئے گئے۔ کراچی سٹی کورٹس کے وکلاء نے بار کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی کی رہنمائی میں طاہر پلازہ کا دورہ کیا اور واقعے کے خلاف سخت نعرہ لگائے۔اس عمارت کے ایک دفتر میں چھ افراد کو زندہ جلایا گیا تھا۔ بعد میں جنرل باڈی کے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے نعیم قریشی نے کہا کہ وکلاء کے اجلاس میں کوئی شر انگیزی نہیں کی گئی تھی۔ وکلاء کے ساتھیوں اور دفاتر کو جلایا گیا ہے ان کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ایم این ایز الیکٹرانک میڈیا کے پروگراموں میں وکلاء پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں وہ غلط بیانی نہ کریں عوام کو سچ بتائیں، وکلاء عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کراچی بار کے دفتر کے پیچھے واقعے طاہر پلازہ میں ہلاک ہونے والی دو خواتین رضیہ بتول اور صوبیہ کی بھی شناخت ہوگئی ہے۔ جو قریبی رشتیدار ہیں۔ ندیم شیخ نے اپنی اہلیہ رضیہ اور بہن صوبیہ کی شناخت چوڑیوں اور کپڑوں سے کی۔ اس سے قبل چار افراد کی باسط محمود، حاجی الطاف عباسی ایڈووکیٹ، دانش اور داور کے نام سے کی گئی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن اسمبلی انور عالم نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ہونے والے چھ میں سے پانچ ایم کیو ایم کے ہمدرد ہیں۔ دونوں خواتین گزشتہ انتخابات میں ان کے امیدوار حیدر عباس رضوی اور فیصل سبزواری کی پولنگ ایجنٹ کے بھی فرائض سرانجام دے چکی ہیں۔ جبکہ دفتر کے مالک حاجی الطاف عباسی ایڈووکیٹ پیپلز پارٹی کے ہمدرد تھے۔ دوسری جانب کراچی بار کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ اگر لواحقین ان سے رابطہ کریں گے تو وکلاء ایف آئی آر میں فریق بننے کے لیئے تیار ہے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں بارہ اپریل کو منقعد ہونے والا وکلاء کنونشن بھی چھبیس اپریل تک ملتوی کیا گیا۔ طاہر پلازہ میں چھ افراد کی ہلاکت کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔ جب کہ دیگر واقعات کے چھ مقدمات بھی نامعلوم افراد کے خلاف دائر کیئے گئے ہیں۔ اندرون سندھ بھی حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی: بار کے رہنما کا گھر بھی نذرِ آتش09 April, 2008 | پاکستان عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ10 April, 2008 | پاکستان پنجاب سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی10 April, 2008 | پاکستان پنجاب: سپیکر، ڈپٹی بلا مقابلہ منتخب11 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||