متحدہ،پیپلز پارٹی میں اصولی اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مضبوط اور مستحکم تعلقات کار کے قیام کے لیے اصولی اتفاق ہوگیا ہے۔ تاہم اس نے اس سے انکار کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا شرکت اقتدار پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے وفد سے ہونے والے تین گھنٹے سے زائد کے مذاکرات کے بعد صحافیوں کو اس میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ’مضبوط اور مستحکم تعلقات کار‘ کو قائم کرنے کے لیے طریقہ کار ابھی طے کیا جانا باقی ہے۔ ’قطع نظر اس کے کہ کیا صورتحال بنتی ہے اور ہم پارلیمان یا صوبائی اسمبلی میں کہاں بیٹھتے ہیں آج ہمارے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ہمارے درمیان مضبوط اور مستحکم تعلقات ناگزیر ہیں۔ ایسے تعلقات کار کے لیے اصولی اتفاق ہوگیا ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی جانب سے مذاکراتی وفد میں سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ، نثار کھوڑو اور ذوالفقار مرزا کے علاوہ خورشید شاہ اور نوید قمر شامل تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے بتایا کہ انہوں نے شرکت اقتدار پر بات ضرور کی ہے لیکن جب تک اس کے خدوخال واضع نہیں ہوتے اور جب تک وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے وہ قیاس آرائیوں کو کوئی موقع نہیں دینا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلقات کار کے قیام سے وہ عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ایک اعتماد کی فضا قائم ہو رہی ہے۔ ’آصف علی زرداری صاحب اور الطاف حسین بھائی نے قومی و صوبائی سطح پر ہمارے تعلقات کار کی جو روح قائم کی ہے آج ہم نے اسے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔‘ ڈاکٹر فاروق ستار نے امید ظاہر کی کہ یہ تعلقات کار تعمیر و ترقی کے عمل کی رفتار کو ناصرف جاری رکھے گا بلکہ یقینی بنائے گا اور اسی سے خوشحالی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی خواہش ہے کہ اعتدال پسند قوتوں کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کے بارے میں ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ وہ آج رات کسی وقت طے ہوگا۔ تقریباً دس روز قبل پیپلز پارٹی کے ساتھ کراچی میں مذاکرات کی ناکامی کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم نے حزب اختلاف میں بیٹھنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم آج کی بات چیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرکت اقتدار کے لیے بات چیت پھر سے ٹریک پر آگئی ہے۔ | اسی بارے میں ایم کیوایم، پی پی کا اظہارِ یکجہتی20 April, 2008 | پاکستان ’ایم کیو ایم کے تحفظات سے فرق نہیں پڑتا‘15 April, 2008 | پاکستان ایم کیو ایم: سندھ میں بھی اپوزیشن13 April, 2008 | پاکستان ’متحدہ سیاسی عمل کا حصہ بنے‘11 April, 2008 | پاکستان وزیرِاعلٰی کا حلف، سیاسی تعطل جاری08 April, 2008 | پاکستان سندھ:’پیپلز پارٹی مفاہمت کی خواہاں‘01 April, 2008 | پاکستان متحدہ غیر مشروط حمایت: زرداری21 March, 2008 | پاکستان فاروق ستار: غیر مشروط دستبرداری 21 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||