BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 April, 2008, 20:13 GMT 01:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’متحدہ سیاسی عمل کا حصہ بنے‘

الطاف حسین
الطاف حسین پہلے بھی ایم کیوایم کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں
متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اپنی جماعت کے اراکینِ اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ بائیکاٹ ترک کر کے سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں۔

ایم کیو ایم نے سباق وزیراعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم سے سندھ اسمبلی کے احاطے میں بدسلوکی کے خلاف اجلاس کا غیر معینہ مدت کے لیے بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔

جمعہ کی شب لندن سے جماعت کے مرکزی دفتر نائن زیرو پر ٹیلیفون کے ذریعے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے نو اپریل کے واقعات پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پارٹی قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تاہم بعد ازاں کارکنوں کے اصرار پر اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا۔

الطاف حسین نے کہا کہ نو اپریل کو جو کچھ بھی افسوسناک عمل ہوا وہ اس پر منتخب اراکین اور ذمے داران سے ناراض ہیں کیونکہ جب شہر میں گھیراؤ جلاؤ اور امن خراب کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ اسے روکنے کے لیے کیوں میدان عمل میں نہیں اترے اور اسے کنٹرول کیوں نہ کیا؟۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے منتخب اراکین اور ذمے داران سے رابطہ کیا کہ وہ شہر میں امن چاہتے ہیں تو پھر وہ فعال ہوئے اور شہر میں امن ہوا۔انہوں نے اراکین اسمبلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ’جس شہر نے آپ کو مینڈیٹ دیا، اور جہاں ترقیاتی کام ہو رہے ہوں یہ شہر آپ کا ہے، سب کا ہے اس میں امن قائم رکھنا سب کی ذمے داری ہے‘۔

الطاف حسین نے ان پر واضح کیا کہ وہ امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے اراکینِ قومی اور صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور بائیکاٹ ختم کریں اور سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں۔ الطاف حسین نے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ ملک کی سلامتی کے لیے ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔

الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ تنظیمی امور کو سنبھالیں، اس موقع پر ایم کیو ایم کے کارکنوں نے نعرے بازی کی اور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ متحدہ کے پارلیمانی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے اس موقع پر اعلان کیا کہ اگر الطاف حسین نے استعفیٰ نہ لیا تو پھر رابطہ کمیٹی، تمام اراکین اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے ناظمین بھی مستعفی ہوجائیں گے۔ وہ ان کی قیادت کے بغیر یہ سفر جاری نہیں رکھ سکتے۔

الطاف حسین نے کارکنوں کے مطالبے کے پیش نظر استعفے کا اعلان واپس لیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں غفلت نہیں برتیں گے اور ہر کام خلوصِ نیت سے کریں گے۔

اس سے قبل گزشتہ سال جنوری میں بھی الطاف حسین نے پارٹی قیادت سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ان کی علیحدگی کی ایک وجہ تنظیم کے ذمہ داران کا ’جاگیرانہ اور وڈیرانہ‘ طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔بعد میں کارکنوں کے اصرار پر انہوں نے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔

باقاعدہ پلاننگ تھی
’خدارا،خدارا، انسانوں کو مت مارو‘
احتجاجایک دوسرے پر الزام
مارپیٹ و کراچی تشدد: اپنے اپنے مخالفین پر الزام
لاہور مظاہرہکراچی پر احتجاج
پنجاب و سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی کامطالبہ
کراچیکراچی میں تشدد
بدھ کو کراچی میں کئی گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں
ارباب رحیمپارلیمانی مار پیٹ
منتخب ایوانوں میں مار پیٹ کی تاریخ
اسی بارے میں
سیاسی جماعتوں کا رد عمل
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد