سیاسی جماعتوں کا رد عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ اسمبلی میں ارباب غلام رحیم اور لاہور میں ڈاکٹر شیر افگن خان نیازی سے بدسلوکی اور اس کے ردعمل کو ایک ایسی سازش قرار دیا ہے جس کا الزام ہر سیاسی جماعت اپنی مخالف پر لگا رہی ہے اور اس کا نشانہ خود کو قرار دے رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے بدسلوکی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اسے آمریت کی باقیات کی شرانگیزی قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا کہ مشرف حامی سابق وزیرڈاکٹر شیر افگن نے اپنے دور میں آمریت کو سہارا دینے کے لیے آئین کے ساتھ مذاق کیا تھا اور ان کے اس کردار کی وجہ سے شہباز شریف کے بقول عوام ان سے نفرت کرتی ہے۔ مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کوئی اس بارے میں کیا کرسکتا ہے شیر افگن کا کیا دھرا ان کے سامنے آیا ہے۔ لاہور کے شریف براداران کے سیاسی حریف اور سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ ان کے مخالفین انتقام کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اور کسی مخالف کی آواز برداشت نہں کرسکتے۔ مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان پر انگلی اٹھانے والے بارہ مئی کے قتل عام کا حساب دیں اور وہ وقت یاد کریں جب نہتے وکلاء کے سر پھاڑے گئے، بہنوں کے دوپٹے کھینچے گئے اور بزرگوں کو گھسیٹ کر بکتر بند گاڑیوں میں ڈالا گیا۔ مسلم لیگ نون نے سابق وزیر سے بدسلوکی کی ذمہ داری صوبے کی نگران حکومت پر عائد کی ہے لیکن پنجاب کے سابق وزیر اعلی اور مسلم لیگ قاف پنجاب کے صدر چودھری پرویز الہی اس بات کو نہیں مانتے۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب کے چیف سیکرٹری سے لیکر ڈی سی او تک شہباز شریف کی مرضی کا تعینات ہوچکا ہے اس لیے یہ ذمہ داری بھی انہی کی ہے۔ مسلم لیگ قاف کے اراکین اسمبلی نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی کا غیر معینہ مدت کے لیے بائیکاٹ کردیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کےاراکین نے بھی سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم سے بدسلوکی کے بعد سے اسمبلی کارروائی کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں۔ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ڈاکٹر شیرافگن پر حملہ کو انتقامی سیاست قرار دیا ہے انہوں نے وزیر ڈاکٹر شیر افگن پر تشدد کے فوراً بعد ایک پریس کانفرنس میں حملہ آوروں کو سپریم کورٹ بار کے بلوائی قرار دیا تھا۔ ان کی اس پریس کانفرنس کے بعد کراچی میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس میں چند وکلاء کو زندہ جلادیا گیا۔ بدسلوکی کا نشانہ بننے والے سابق وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کہتےہیں کہ ان واقعات سے ملک بھر میں فسادات پھوٹ پڑیں گے۔انہوں نے کہا ’منتخب حکومت پر ایک ایسا صدر ہونا چاہیے جس کے پاس پارلیمنٹ کو توڑنے کا اختیار ہو ورنہ پاکستان کا جو سیاسی کلچر ہے اس میں ہم ایک دوسرے کی تکا بوٹی کردیں گے۔‘ برسر اقتدار پیپلز پارٹی نے اسے نومنتخب حکومت کے خلاف سازش قرار دیا۔وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ یہ تشویش ناک بات ہے کہاں سے قوتیں متحرک ہو رہی ہیں جو نئی حکومت اور جمہوریت کو ختم کرنا چاہتی ہیں اور منفی اثرات ملک میں پھیلانا چاہتی ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اسے ان عناصر کی سازش قرار دیا جوملک میں جمہوریت کو پنپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن جو شیر افگن سے بدسلوکی کا واقعہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی کارستانی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے پرتشدد واقعات کی ذمہ داری صدر پرویز مشرف پر عائد کی ہے اور کہا ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ وہ اپنے عہدہ چھوڑنے کوتیار نہیں ہیں۔ پاکستان کے اخبارات نے بھی تشدد کےواقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک قومی اخبار نوائے وقت نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ نومنتخب حکمرانوں کو سب سے پہلے اس سوراخ کو بند کرنا چاہیے جہاں سے جمہوریت کو ڈسنے کی سازش کی جارہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’تشدد کے پیچھے صدر اور اتحادی‘09 April, 2008 | پاکستان پنجاب سرحد: ایم کیو ایم پر پابندی10 April, 2008 | پاکستان عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ10 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||