BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خدارا۔۔ خدارا انسانوں کو مت ماریں‘

ہلاک اور زخمی ہونے والوں مییں بچے بھی شامل تھے
’چھٹے فلور پر 616 نمبر کمرہ تھا اس کمرے میں شدید آگ تھی، باہر سے تالہ لگا ہوا تھا، اس لئے ہمیں دروازہ توڑ کر اندر جانا پڑا، کھڑکیاں توڑیں اندر آگ ہی آگ تھی اور دھواں ہی دھواں تھا، کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا، بڑی مشکل سے جب ہم لوگ اندر پہنچے تو واش روم میں ایک لاش ملی اور چار کمرے کے اندر پڑی تھیں۔ کوئی بھی ہیلپ کرنے والے نہیں تھے، صرف فائر بریگیڈ والے تھے ہم بڑی مشکلوں سے لاشیں لیکر نیچے پہنچے اس میں سیڑھیوں سے پھسل کر ہمارے چار ساتھی بھی زخمی ہوئے۔‘

یہ تھے چھیپا ایمبولینس سروس کے رضاکار محمد الطاف کے الفاظ جو نو اپریل کو سٹی کورٹس کراچی کے قریب واقع طاہر پلازہ میں فائربریگیڈ کے عملے کے ساتھ ان لوگوں کی امداد کو پہنچے تھے جنہیں ایک وکیل حاجی الطاف عباسی کے دفتر میں بند کرکے آگ لگادی گئی تھی لیکن کوئی بھی نہ بچ سکا اور اندر بند چھ لوگ زندہ جل گئے۔

لیکن ایسا کیوں ہوا، پولیس جلانے والوں کو پکڑنے اور جلنے والوں کو بچانے میں کیوں ناکام رہی، یہی بات میں نے آئی جی پولیس سندھ اظہر فاروقی سے جاننا چاہی جو پچھلے سال بارہ مئی اور اس کے بعد ستائیس دسمبر کو بھی کراچی پولیس کے سربراہ تھے۔

پولیس کے مطابق ان واقعات میں چھ افراد ہلاک ہوئے

ان کا جواب تھا ’یہ آپ کی آبزرویشن (رائے) ہے اس پر میں تبصرہ نہیں کروں گا۔‘

میں نے الفاظ بدل کر وہی سوال دہرایا۔ ’میں آپ سے صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا آپ پر کوئی سیاسی دباؤ ہوتا ہے کہ آپ لوگ سب کچھ ہوتا دیکھتے بھی کارروائی نہیں کرتے؟‘

جواب: ’نہیں جی کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہوتا۔‘

سوال: ’لیکن اس طرح دن دہاڑے لوگوں کو اسلحے کے زور پر دفتر میں بند کرکے زندہ جلادینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اظہر فاروقی فوری مداخلت کرتے ہیں) ’یہ آپ تقریر کررہے ہیں یا رپورٹنگ کررہے ہیں، آپ میرا ٹائم بھی ضائع کررہے ہیں۔ تقریر نہ کریں اور سیاسی بیان نہ دیں۔‘

سوال: اظہر فاروقی صاحب میں تو صرف ایک شہری کی حیثیت سے صرف یہ جاننا چاہ رہا ہوں کہ پولیس جس کا بنیادی فرض لوگوں کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے وہ اس دن کہاں تھی اور وہ کیوں اتنے سنگین جرم کو ہوتا دیکھتی رہی؟
جواب: ’میں آپ کو جواب ہی دے رہا ہوں۔‘

میں نے مزید اصرار نہیں کیا۔

اس طرح میں حتی الامکان کوشش کے باوجود یہ نہیں جان سکا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت میں پولیس بارہ مئی اور ستائیس دسمبر کی طرح نو اپریل کو بھی لاقانونیت کے آگے بے بس کیوں تھی۔

اس واقعے میں دو عورتوں سمیت جو چھ لوگ زندہ جل گئے، ان میں الطاف عباسی بھی شامل ہیں۔

تشدد کے واقعات کے بعد پولیس کا گشت

مرحوم کے پسماندگان میں دو بیوائیں اور چھ بچے شامل ہیں۔ مرحوم کے بھائی طارق عباسی نے بتایا کہ ’میں آپ کو کیا بتاؤں کہ ہمارے گھر کے کیا حالات ہیں، دو دن سے میں اپنی والدہ کا سامنا نہیں کرپا رہا ہوں کہ اگر سامنا ہوا تو میں کیا بتاؤں گا کہ بھائی کہاں ہیں؟‘

انہوں نے بتایا کہ الطاف عباسی کا سب سے بڑا بچہ ساڑھے پانچ چھ سال کا ہے اور باقی سب چھوٹے بچے ہیں۔

’آپ خود بتائیں ان بچوں کا کیا ہوگا، وہ (مرحوم) ان کے واحد کفیل تھے، تو ہم دوسرے بھائی اتنے ویل سیٹ (کھاتے پیتے) تو ہیں نہیں۔‘

طارق عباسی اپنے بھائی کی موت کا ذمہ دار حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کو قرار دیتے ہیں۔

’یہ گورنمنٹ کی نااہلی ہے کہ اس کی ناک کے نیچے کوئی بھی شخص کچھ بھی کرکے گزرجائے اور نہ پولیس نہ انتظامیہ اس کو نہیں پکڑتی۔ ایک ہمارے ہیں نا چوہدری شجاعت، وہ کراچی میں جب بھی آتا ہے تو اس کے دوسرے دن کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے۔‘

’ہمیں خود عینی شاہدین نے بتایا کہ واقعے سے پہلے ایک بڑی گاڑی آکر رکی اس میں سے دو بندے نکلے اور پھر چند مسلح افراد آکر اس کے اطراف میں جمع ہوگئے اور اس کے بعد وہ آپس میں بات کرتے ہیں اور پھر گاڑی چلی گئی اس کے بعد وہ لڑکے ہاتھوں میں کیمیکل کے پیکٹس اٹھاکر اوپر چڑھتے ہیں اور اسکے بعد آگ لگانے کے بعد فرار ہوجاتے ہیں۔‘

’باقاعدہ پری پلاننگ کے اس طرح کوئی لوگوں کو مارے تو آپ خود سمجھ لیں کہ مارنے والے کون لوگ ہیں۔‘

طارق نے بتایا کہ ان کے بھائی کو آگ لگانے سے پہلے گولی ماری گئی تھی۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ حکومت سے کیا مطالبہ کریں گے تو ان کا صرف یہی کہنا تھا کہ ’ہم حکومت سے کیا مطالبہ کریں، ہم تو صرف یہی چاہتے ہیں کہ اس شہر میں امن ہو، سکھ ہو، غریب لوگوں کو ان کا روزگار کرنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے دیں اور ہم کیا چاہیں گے ہمارا بھائی تو چلاگیا، اب کسی اور کا بھائی، بیٹا اور باپ اس طرح نہ مرے۔‘

لیکن اس سوال پر کہ جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ہے ان کے لئے کیا کہیں گے تب ان کا الفاظ صبر کا مظہر تھے۔

’ان سے یہی کہوں گا کہ خدارا، خدارا، خدارا انسانوں کو مت مارو، انہیں زندہ مت جلاؤ ورنہ کل کو تم بھی جلو گے اور تھارے بچوں پر بھی خدا کا عذاب نازل ہوگا۔ کیا ان کو مرنا نہیں ہے کیا یہ سمجھتے ہیں کہ صدا طاقتور رہیں گے، میں تو بددعا نہیں دوں گا لیکن ان کے بچوں کی آہیں اور بددعائیں ان کو ضرور لگیں گی جن سے یہ زندگی چھینتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
شیری اور میں
10 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد