BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 April, 2008, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شیری اور میں

ایڈیٹری سے منسٹری تک
News image
 اب جب میں انہیں ایک وفاقی وزیر کے روپ میں دیکھتا ہوں تو رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ کیا ان کی صحافتی دلیری سیاسی دلیری میں بدل سکے گی؟
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات بننے سے پہلے میں شیری رحمان کو بطور ایک مدیر جانتا تھا۔

وہ قریباً چھ برس میری بھی ایڈیٹر رہیں۔ گو شیری کراچی میں تھیں اور میں لاہور میں، لیکن اس لمبے عرصے میں کئی ایسے واقعات ہوئے جس سے مجھے شیری رحمان کی خامیاں اور خوبیاں پرکھنے کا موقع ملا۔

ان میں سب سے بڑی خامی تو یہ ہے کہ غصہ اگر اپنے آپ پر بھی آ جائے تو نکال کر ہی چھوڑتی ہیں۔ لیکن غصے کے ساتھ ساتھ ، ان کی دلیری بھی بینظیر ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میاں نواز شریف کی قائم کردہ احتسابی مشینری کے سربراہ سیف الرحمٰن میڈیا پر بری طرح سے برس پڑے۔ ان کے تابڑ توڑ حملوں کے آگے میڈیا کے بڑے بڑے برج بھی لرز اٹھے۔

شیری مجھ سے کہنے لگی کہ یہ سیف الرحمٰن کون ہے اور کہاں سے آیا ذرا پتا تو کراؤ۔ اسے میری شومئی قسمت سمجھیئے یا نا سمجھی لیکن جو مواد میں نے ایک مضمون کی شکل میں اکٹھا کیا وہ سیف الرحمٰن کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

پھر کیا تھا، ایک آفت ٹوٹ پڑی اور معاملہ بڑے صاحبان کے پاس جا پہنچا۔ بات اتنی بگڑی کے مجھے اپنی نوکری کے لالے پڑ گئے۔ شیری سے بات ہوئی تو رہا نہ گیا، پوچھ ہی بیٹھا کہ کہیں مجھے بھیجنے کی تیاریاں تو نہیں ہو رہیں۔ ہنس کے کہنے لگی مجھے اپنی ایڈیٹر مانتے ہو نا۔ میں نے کہا آپ کو کوئی شک۔ شیری بولی پھر چین سے بیٹھو بھیا، گئے تو دونوں اکٹھے جائیں گے۔

لیکن اب جب میں انہیں ایک وفاقی وزیر کے روپ میں دیکھتا ہوں تو رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ کیا ان کی صحافتی دلیری سیاسی دلیری میں بدل سکے گی؟

مسئلہ یہ ہے کہ صحافت میں آپ کے دشمن سچ کے بھی دشمن ہوتے ہیں جبکہ مصلحت کو آپ کی کمزوری سمجھا جاتا ہے اور اصولی لڑائیاں آپ کا صحافتی قد کاٹھ بڑھاتی ہیں۔

لیکن سیاست میں گنگا اکثر اُلٹی بہتی ہے۔ سچ کے لبادے میں جھوٹ چھپا ہوتا ہے، مصلحت آپ کی طاقت ہوتی ہے اور اصولی لڑائیاں ہار کر بھی سیاسی جنگیں جیتی جا سکتی ہیں۔

صحافی دوستوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک شیری رحمٰن نے ان سے جو بھی وعدے کیے، انہیں یا تو پورا کر دیا یا پورا کرنے کا عمل شروع کر دیا۔

لیکن ابھی تو حکومت بنے چار دن بھی نہیں گزرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کچھ عرصے بعد جب تنقید کے تھپیڑوں سے حکومت بدحال ہونے لگے گی تو شیری رحمٰن کیا وہی شیری ہو گی جس نے اپنے ایک غریب رپورٹر کے سر پر آئی مصیبت کو اپنے سر لے لیا تھا یا پھر سیاسی مصلحت میں لپٹی ایک نئی شیری رحمٰن سامنے آئے گی جس کے لیے ماضی کے اصول اس گزرے ہوئے وقت کی طرح ہونگے جو کبھی واپس نہیں آتا۔

آصف زرداری کا سفرآصف زرداری کا سفر
پیپلز پارٹی کی سٹیئرنگ ابھی ان کے ہاتھوں میں ہے
یوسف رضا گیلانی تیس برس کا سفر
ضلع کونسل چئرمین سے وزارتِ عظمٰی تک
سندھ اسمبلی کے سپیکر نثار کھوڑو سندھ کےسپیکر
سندھ اسمبلی سپیکر نثار کھوڑو کا سیاسی سفر
شہلا رضا نئی ڈپٹی سپیکر
ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کا سیاسی سفر
امیر رئیسانی
امیرِ سراوان سےوزیراعلیٰ بلوچستان تک
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد