ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | شہلا رضا کا تعلق کراچی کے متوسط طبقے کے سے ہے |
سندھ اسمبلی کی نو منتخب ڈپٹی سپیکر سیدہ شہلا رضا پیپلز پارٹی کی پرانی کارکن ہیں۔ جنرل ضیاالحق کے دور میں انیس سو پچاسی میں انہیں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کا جوائنٹ سیکرٹری منتخب کیا گیا تھا۔ انیس سو نوے میں جام صادق علی کے دور حکومت میں انہیں قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں کئی ہفتوں تک سی آئی اے سینٹر کراچی میں رکھا گیا جہاں مبینہ طور پر انہیں سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ حراست میں تھیں جب انہوں نے کراچی سینٹرل جیل سے ایم ایس سی فزیالوجی کا امتحان دیا۔  |  انیس سو نوے میں جام صادق علی کے دور حکومت میں انہیں قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں کئی ہفتوں تک سی آئی اے سینٹر کراچی میں رکھا گیا جہاں مبینہ طور پر انہیں سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا  |
شہلا رضا کا تعلق کراچی کے متوسط طبقے سے ہے۔ اس وقت بھی وہ دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہتی ہیں۔ سنہ دو ہزار چار میں انہیں پیپلز پارٹی شعبۂ خواتین کراچی ڈویژن کا سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ دو سال قبل ایک روڈ حادثے میں ان کے دو بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حادثے میں وہ اور ان کے شوہر بھی زخمی ہوئے تھے۔ ان کی نامزدگی پیپلز پارٹی کی جانب سے خواتین کو ایوان میں مؤثر نمائندگی دینے اور ان کے شہری پس منظر کی وجہ سے کی گئی ہے۔ |