چیف آف سراوان سےوزیراعلیٰ تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ کے رئیسانی روڈ پر واقع سراوان ہاؤس کے ایک مکین کو ایک مرتبہ پھر مسائل میں گھرے ایک انتہائی مشکل صوبے کی باگ دوڑ سونپی گئی ہے۔ پانچ جولائی انیس سو پچپن کو پیدا ہونے والے نواب محمد اسلم خان رئیسانی سابق گورنر اور وفاقی وزیر نواب غوث بخش رئیسانی کے برخوردار ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلوچ قبائل میں چیف آف سراوان کی ذمہ داری بھی رکھتے ہیں۔ پولیٹکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والے رئیسانی نے عملی زندگی کا آغاز پولیس میں نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی وفات کے بعد انہوں نے سیاست میں قدم رکھا اور صوبائی وزیر کے علاوہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن انیس سو اٹھاسی میں منتخب ہوئے البتہ پیپلز پارٹی میں انہوں نے شمولیت انیس سو چورانوے میں اختیار کی۔ مالی اعتبار سے وہ ایک غریب صوبے کے ان افراد میں شامل ہیں جن کی کروڑوں روپے مالیت کی آبائی زمین چھ اضلاع میں موجود ہے۔ جون دو ہزار سات تک جمع کرائے گئے اثاثوں کے آخری گوشوارے کے مطابق ان کی یہ اراضی مستونگ، سبی، قلات، کوئٹہ، بولان اور گوادر میں واقع ہے۔ ان گوشواروں کے مطابق وہ تیرہ لاکھ روپے کی ایک لینڈ کروزر کے مالک ہونے کے علاوہ کوئلے کی دو کانوں کے لائسنس بھی رکھتے ہیں۔ اپنے انتخاب کے بعد ایوان میں پہلی تقریر میں نواب رئیسانی نے صوبہ سرحد کی حکومت کی طرح شدت پسندوں سے مذاکرات کی بات کی ہے۔ قبائلی سردار اور صوبائی خودمختاری کے حامی ہونے کے ناطے توقع کی جا رہی ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ زیادہ موثر انداز میں صوبے کے مسائل کا حل تلاش کر پانے میں کامیاب ہوں گے۔ اس مقصد کے لیےصوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بلامقابلہ منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے نواب رئیسانی کو ایوان کی بھرپورحمایت ضرور حاصل ہے۔ | اسی بارے میں بلوچستان اسمبلی کے پانچ سال17 November, 2007 | پاکستان حیدر ہوتی: وزیر اعلٰی سرحد منتخب31 March, 2008 | پاکستان قائم علی شاہ سندھ کے نئے وزیرِاعلیٰ07 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||