حیدر ہوتی: وزیر اعلٰی سرحد منتخب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے مشترکہ امیدوار امیر حیدرخان ہوتی صوبہ سرحد کے بلا مقابلہ وزیراعلی منتخب ہوگئے ہیں تاہم ان کے انتخاب کا باضابطہ اعلان کل کیا جائےگا۔ پیر کو سرحد اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی کی صدارت میں شروع ہوا تو سب سے پہلے سپیکر نے ایوان کے ابتدائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے لکی مروت سے نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی انور سیف اللہ خان سے حلف لیا۔ جس کے بعد سپیکر نے سرحد اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کےلئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کےلئے ایک بجے تک وقت دیا۔ سرحد اسمبلی میں اے این پی اور پی پی پی کے مشترکہ امیدوار امیر حیدر خان ہوتی کی طرف سے قائد ایوان کےلئے چھ کاعذات نامزدگی داخل کرائے گئے جس میں پاکستان پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ایک ایک جبکہ اے این پی اور پیپلزپارٹی کی جانب سے دو دو کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے۔ ایک بجے تک امیر حیدر خان ہوتی کے علاوہ کسی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے جس کے بعد اسمبلی رولز کے مطابق حکمران اتحاد کے امیدوار بلامقابلہ وزیراعلی منتخب ہوگئے۔ تاہم ان کے انتخاب کا باضابطہ اعلان کل سرحد اسمبلی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ نو منتخب وزیراعلی کل گورنر ہاؤس میں اپنے عہدے کا حلف لیں گے جبکہ صوبائی کابینہ کی حلف وفاداری بدھ کو منعقد کی جائےگی۔ بعد میں سرحد اسمبلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ان پر اعتماد کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جس طرح تمام سیاسی جماعتوں نے شروع میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’صوبے کے مخصوص حالات میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور اب وزیراعلی کا انتخاب ملک و قوم کےلئے بہترین پیغام ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو صوبائی کابینہ میں دو وزارتیں دی جائےگی۔امیرحیدر خان ہوتی نے کہا کہ صوبہ میں امن کے قیام کے حوالے سے جرگوں کا آغاز جلد کرلیا جائے گا۔ واضح رہے کہ سرحد اسمبلی کے ایک سو سترہ کے ایوان میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کو پچھہتر سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ حکومت سازی کے فارمولے کے تحت اے این پی کو وزارت اعلیٰ، ڈپٹی سپیکر اور بارہ وزارتیں جبکہ پیپلز پارٹی کو سپیکرشپ اور نو وزارتیں دی گئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ابھی تک اپنے نو وزراء کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ | اسی بارے میں صرف شرعی قانون قابل قبول: طالبان30 March, 2008 | پاکستان سرحد اسمبلی کا افتتاحی اجلاس28 March, 2008 | پاکستان ’القاعدہ سے بات چیت نہیں‘28 March, 2008 | پاکستان کل کا قائد ایوان، آج کا قائد حزب اختلاف27 March, 2008 | پاکستان صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس طلب22 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||