BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 March, 2008, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد اسمبلی کا افتتاحی اجلاس

سرحد اسمبلی(فائل فوٹو)
قائد ایوان کے انتخاب کے لیے اجلاس اکتیس مارچ کو طلب کیے جانے کا امکان ہے
پشاور میں سرحد اسمبلی کے اراکین کی حلف برداری کے ساتھ ہی مرکز کےبعد صوبوں میں بھی حکومت سازی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

سرحد اسمبلی کا افتتاحی اجلاس جمعہ کو انتخابات کے انعقاد کے قریباً چھ ہفتے بعد منعقد ہوا جس میں اٹھارہ فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں فتح حاصل کرنے والے اراکین نے حلف اٹھایا۔

گورنر نےگزشتہ اسمبلی کے سپیکر بخت جہاں خان کے مستعفی ہونے کی وجہ سے اجلاس کی صدارت کی ذمہ داری اے این پی کے سینئر رکن اسمبلی ارباب ایوب جان کو سونپی اور انہوں نے ہی ایک سو سترہ منتخب اراکین میں سے ایک سو سولہ سے انیس سو تہتر کے آئین کے تحت حلف لیا۔ ارباب ایوب جان خود سنیچر کو سپیکر کے انتخاب کے بعد حلف اٹھائیں گے۔

حلف اٹھانے کے بعد اراکینِ اسمبلی نے رول آف ممبر پر دستخط کیے۔حلف برادری کے بعد پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنماء اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالاکبر خان نے اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بے نظیر بھٹو کے اصلی قاتلوں تک پہنچنے کے لیے ان کے ہلاکت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائے۔ ایوان نے متفقہ طور پر یہ قرارداد منظور کر لی۔

اس کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی سید ظاہر شاہ کی تجویز پر ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے ڈنمارک کے اخبار میں پیغمبر اسلام کے ’ توہین آمیز‘ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایک اور قرارداد متفقہ طور منظور کی جس میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈنمارک کے ساتھ سفارتی تعلقات جاری رکھنے پر نظر ثانی کریں۔

News image
 حلف برادری کے بعد پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنماء اور رکن صوبائی اسمبلی عبدالاکبر خان نے اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بے نظیر بھٹو کے اصلی قاتلوں تک پہنچنے کے لیے ان کے ہلاکت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرائی جائے۔

سرحد اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے عہدوں کے لیے جمعہ کی دوپہر بارہ بجے تک کاغذات جمع کرانے کا وقت دیا گیا تاہم سپیکر شپ کے لیے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے متفقہ امیدوار کرامت اللہ چغرمٹی اور ڈپٹی اسپیکر کے لیے خوشدل خان کےعلاوہ کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں، اس طرح سنیچر کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کے موقع پر حکمران اتحاد کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہو جائیں گے۔

اے این پی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ قائداعظم، پیپلز پارٹی شیرپاؤ اور جے یو آئی(ف) کی قیادت کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اپوزیشن میں شامل تینوں جماعتوں نے حکمران اتحاد کے امیدواروں کےسامنے اپنے امیدوار نہ لانے کا اعلان کیا ہے۔

اسے سے قبل جب اجلاس شروع ہوا تو اجلاس کے صدر اربا ایوب جان سے یہ وضاحت مانگی گئی کہ اراکین اسمبلی سے پی سی او یا تہتر کے آئین کے تحت حلف لیا جائے گا جس پر کچھ دیر تک بحث کے بعد ارباب ایوب جان نے کہا کہ حلف تہتر کےآئین کے تحت ہی حلف لیا جائے گا۔جس کے بعد انہوں نے تمام اراکین سے حلف لیا۔

اس موقع پر کوہاٹ سے نومنتخب رکن اسمبلی سید قلب حسن نے حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اورکزئی ایجنسی کے مسلح لشکر گزشتہ چھ دنوں سے کوہاٹ کے کچئی گاؤں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں لیکن حکومت لڑائی رکوانے کے لیے فورسز بھیجنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم بعد ازاں اے این پی کے رہنما بشیر بلور نے سید قلب حسن کو حلف اٹھانے پر رضامند کر لیا۔

سرحد اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جمعہ کی صبح اسمبلی کی جانب جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور سڑک پر چلنے والی گاڑیوں بالخصوص لوکل بسوں پر خصوصی نظر رکھی جا رہی تھی۔

افتتاحی اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

اسمبلی کی عمارت سے کئی کلومیٹر دور واقع عمارتوں کی چھتوں پر بھی پولیس کے اہلکار کھڑے تھے جبکہ عمارت کے اندر جانے کے لیے تلاشی کے ایک سخت عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ صوبہ سرحد اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صحافیوں اور فوٹو گرافروں کو گراؤنڈ فلور پر اجلاس کی کارروائی کی کوریج کرنے سے منع کیا گیا اور ان کے لیے دوسری منزل پر نشستیں مخصوص کر دی گئیں جبکہ نجی ٹیلی ویژن چینلز کی براہ راست نشریات کے لیے اسمبلی کے ہال کے باہر ایک مخصوص ڈائس بنایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ صوبہ سرحد کی حکومت نے سرحد اسمبلی کا اجلاس پہلے دو اپریل کو بلایا تھا تاہم ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پرگورنر سرحد اویس احمد غنی نے اجلاس اٹھائیس مارچ کو طلب کرنے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں
سرحد اسمبلی اجلاس طلب
26 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد