BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 March, 2008, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد میں سپیکرز اور وزارتیں

سرحد اسمبلی
صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے مابین حکومت سازی کا فارمولہ طے پاگیا
پاکستان کے صوبہ سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے مابین حکومت سازی کا فارمولہ طے پاگیا ہے جس کے تحت سرحد اسمبلی میں سپیکر پیپلز پارٹی کا جبکہ ڈپٹی سپیکر اے این پی سے ہوگا۔

بدھ کو پشاور میں دونوں سیاسی پارٹیوں کی مذاکراتی کمیٹیوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں دو نوں جماعتوں کے صدر اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرینز کے صوبائی صدر رحیم داد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں دونوں جماعتوں نے حکومت سازی کے حوالے سے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں اور ان پر تفصیلی بحث کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں وزارتوں کا تعین اور ان کی تقسیم پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے فیصلوں کے مطابق سپیکر پیپلز پارٹی کا ہو گا جب کہ ڈپٹی سپیکر کا عہدہ اے این پی کو دیا جائے گا۔

اے این پی ذرائع کے مطابق کابینہ میں 21 وزراء شامل کیے جائیں گے جس میں بارہ کا اے این پی سے جب کہ نو وزراء کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہوگا۔ اس کے علاوہ صوبائی کابینہ میں دو سینئر وزیر بھی شامل ہوں گے جس میں ایک اے این پی سے جب کہ دوسرا پیپلزپارٹی سے ہوگا۔

وزارتوں کی تقسیم کا فارمولہ
کابینہ میں 21 وزراء شامل کیے جائیں گے جس میں بارہ کا اے این پی سے جب کہ نو وزراء کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہوگا اس کے علاوہ دونوں پارٹیوں کا ایک ایک سینئر وزیر ہو گا
اے این پی

رحیم داد خان کے مطابق مذاکرات بڑے اچھے اور خوشگوار ماحول میں ہوئے جس میں تمام معاملات طے پاگئے ہیں۔ ان کے بقول صوبہ کے نام کی تبدیلی، امن وامان اور صوبائی خودمختاری کے حوالے سے دونوں پارٹیوں کا موقف ایک اور بڑا واضح ہے لہذا اس سلسلے میں ابہام موجود نہیں۔

واضح رہے کہ حکومت سازی کے فارمولے کے تحت وزرات اعلی کا عہدہ سرحد اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کو دیا گیا ہے جس کے لیے پارٹی کی طرف سے پہلے ہی مردان سے نو منتخب رکن سرحد اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی کو نامزد کیا چکا ہے۔

مولانا فضل الرحمان’لاٹھی اور سانپ‘
’مرحلہ وار استعفوں کی بات مضحکہ خیز‘
مولانا فضل الرحمٰن ’تبدیلی کی کنجی‘
’مولانافضل الرحمن شدید تذبذب کا شکار ہیں‘
جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
جنرل مشرفانتخاب چھ اکتوبر کو
صدر جنرل مشرف اخبارات پر چھائے رہے
صدر کا حلقہ انتخاب
’مسئلہ انتخاب کا نہیں اخلاقی جواز کا ہے‘
اسی بارے میں
سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ
27 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد