BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 March, 2008, 12:20 GMT 17:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صرف شرعی قانون قابل قبول: طالبان

 وزیراعظم یوسف رضا گیلانی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایف سی آر قانون کے خاتمے کا اعلان کیا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے وزیر اعظم کی جانب سے متنازعہ ایف سی آر قانون کے خاتمے کے اعلان کے جواب میں کہا ہے کہ انہیں نظام شریعت کے سوا کوئی دوسرا نظام قابل قبول نہیں ہوگا۔

اس بات کا اعلان شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے رہنما حافظ گل بہادر نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ انہیں صرف نظام شریعت ہی ان کے لئے قابل قبول ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی اعلان دہرایا کہ ان کا حال ہی میں قائم کی جانے والی ’تحریک طالبان پاکستان‘ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا وہ اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ آغاز سے ہی اس کا حصہ نہیں تھے۔

اس بیان سے ایک روز قبل تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے وزیراعظم کی جانب سے مبینہ شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر نئی حکومت نے صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو نہیں دہرایا تو اس کے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

مبصرین اسے تحریک طالبان پاکستان کی تعاون کی مشروط پیشکش قرار دے رہے تھے لیکن مولوی عمر نے ایف سی آر کے خاتمے پر اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔

گزشتہ برس دسمبر میں قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں مبینہ طور پر سرگرم طالبان کے مختلف گروپوں نے متحد ہو کر بیت اللہ محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد ڈالی تھی۔لیکن شمالی وزیرستان کے طالبان اس سے دور رہے۔

اس وقت اطلاعات تھیں کہ جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل کے علاقے میں سرگرم طالبان رہنما ملا نذیر اور شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر کے درمیان غیرملکیوں کو پناہ دینے کے مسئلے پر اختلافات پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم ان کی طالبان نے تردید کی تھی۔

شمالی وزیرستان کے شدت پسندوں کے آج کے بیان سے واضح ہوا ہے کہ قبائلی علاقوں میں طالبان پوری طرح سے ایک پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہوسکے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ علیحدگی سے متعلق وضاحت کے لئے اب کیوں مناسب وقت سمجھاگیا۔

اسی بارے میں
قبائل کو طالبان کی دھمکی
27 March, 2008 | پاکستان
طالبان کا لہجہ مصالحانہ
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد