باجوڑ: طالبان جنگجوؤں کاگشت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں میبنہ طور پر مقامی طالبان نے دکانداروں کی درخواست پر علاقے میں ’قتل و غارت اور اغواء برائے تاوان‘ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کےلئے بازاروں میں مسلح گشت شروع کردیا ہے۔ باجوڑ سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ایجنسی کے ایک اہم تجارتی مرکز عنایت کلی میں گزشتہ دو دنوں سے تمام اہم مقامات پر مسلح طالبان ڈیوٹی دیتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق عنایت کلی بازار کو آنے جانے والے تمام راستوں پر مسلح افراد مستعد کھڑے ہیں اور وہاں گشت بھی کر رہے ہیں۔ عنایت کلی بازار ایسوسی ایشن کے صدر شاہ محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں کچھ عرصہ سے قتل وغارت اور ڈکیتی کی وادراتوں میں اضافہ ہوا ہے اور حالات بھی کچھ اس طرح بن گئے تھے کہ حکومت کےلئے ان جرائم پر قابو پانا مشکل ہوگیا تھا۔ ان کے مطابق علاقے سے جرائم کے خاتمے کے لئے مقامی مشیران اور دکانداروں کے مشورے سے مقامی طالبان کو درخواست کی گئی کہ وہ کچھ عرصے کے لئے بازار میں گشت کا انتظام کریں تاکہ جرائم اور دیگر وارداتوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تاجروں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ کل سے بازار میں عسکریت پسند گشت نہیں کرینگے بلکہ اب دکاندار بازار کی سکیورٹی کا خود انتظام کرینگے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پولیٹکل انتظامیہ نے بازار میں عسکریت پسندوں کے مسلح گشت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیاہے اور اس سلسلے میں تاجروں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ طالبان کو بازاروں سے فوری طورپر ہٹا دیں۔ باجوڑ میں مقامی طالبان کے امیر مولوی فقیر محمد نے اتوار کو عنایت کلی بازار میں ایک اجتماع سے خطاب کیا تھا جس میں مقامی ذرائع کے مطابق بازار کے دکانداروں نے طالبان کمانڈر سے درخواست کی تھی کہ وہ انہیں علاقے میں تحفظ فراہم کریں۔ مولوی فقیر نے اجتماع سے خطاب میں واضح کیا تھا کہ اگر مقامی انتظامیہ دکانداروں کو تحفظ نہیں دی سکتی تو پھر بقول ان کے ’مجاہدین‘ کو مجبوراً باجوڑ میں بازاروں کا انتظام خود سنبھالنا پڑےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان پاکستان فوج اور حکومت کے خلاف لڑنا نہیں چاہتی بلکہ ان کی جنگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ہے۔ اس سلسلے میں باجوڑ کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ محمد جمیل سے رابط کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ عنایت کلی میں خاصہ دار اور لیوی فورس کے اہلکار تعینات ہیں اور علاقے میں امن وامان کی صورتحال اتنی خراب نہیں جتنی بتائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لہذا اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں جائیگی۔ واضح رہے کہ چند ہفتوں سے عنایت کلی بازار میں امن وامان کی صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جارہی ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل بازار میں نامعلوم افراد نے بندوق کی نوک پر حبیب بنک کو لوٹا تھا جبکہ علاقے میں مختلف واقعات میں لیوی کے ایک اہلکار سمیت کئی افراد ہلاک بھی کئے جاچکے ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان آپریشن بند کرنے کا مطالبہ05 February, 2008 | پاکستان ’انتخابات میں حملے نہ کرنے کا اعلان‘13 February, 2008 | پاکستان چیک پوسٹ حملہ، صوبیدار ہلاک15 February, 2008 | پاکستان طالبان کا لہجہ مصالحانہ24 February, 2008 | پاکستان طالبان کا سیاسی جماعتوں کو پیغام24 February, 2008 | پاکستان معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام01 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||