BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان آپریشن بند کرنے کا مطالبہ

جنوبی وزیرستان میں کارروائی (فائل فوٹو)
کارروائی سے صرف بےگناہ شہری متاثر ہو رہے ہیں: امن کمیٹی
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محسود قبائل نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے علاقے میں جاری فوجی آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے اور مسئلے کو جرگے کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پریس کانفرنس میں محسود امن کمیٹی کے مقامی سربراہ امیر زمان نے کہا کہ موجودہ کارروائی سے صرف بےگناہ شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

امیر زمان اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے گھر اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اب بھی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ محسود قوم نے چودہ رکنی کمیٹی بنائی ہے جو متاثرہ لوگوں کی مدد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ کمیٹی ہزاروں متاثرین میں بستر، آٹا، چینی،گھی اور دیگر اشیاء خوردنوش تقیسم کر چکی ہے۔ان کے مطابق یہ امدد محسود کمیٹی نے اپنا چندہ جمع کر کے ممکن بنائی۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے عالمی اور بالخصوص پاکستانی امدادی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ متاثرین اور نقل مکانی کرنے والوں کی مالی مدد کریں کیونکہ ایسے لوگوں کی تعداد دن بدن بڑھی رہی ہے جن کی مدد محسود امدادی کمیٹی کی بس کی بات نہیں ہے۔

پکڑ دھکڑ نہ کریں
 تفتیش کے نام پر معصوم اور بے گناہ لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ اگر پولیس کو مشکوک شخص نظر آتا ہے تو پولیس کو اپنی کارروائی کا حق ہے، لیکن بے گناہ اور چھوٹی عمر کے جوانوں کی پکڑ دھکڑ قبائل کے ساتھ ایک زیادتی ہے
محسود کمیٹی

واضح رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں متاثرین کے آمد کے بعد سے پولیس نے محسود اور وزیر قبائل کے افراد کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے جس کے دوران روزانہ درجنوں نوجوانوں کوگرفتار کرکے تفتیش کی جا رہی ہے۔پریس کانفرنس میں اس حوالے سے پولیس سے درخواست کی گئی کہ متاثرہ افراد کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کیا جائے اور تفتیش کے نام پر معصوم اور بے گناہ لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔ اگر پولیس کو مشکوک شخص نظر آتا ہے تو پولیس کو اپنی کارروائی کا حق ہے، لیکن بے گناہ اور چھوٹی عمر کے جوانوں کی پکڑ دھکڑ قبائل کے ساتھ ایک زیادتی ہے۔

محسود کمیٹی کے ایک ممبر نور خان نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے امدادی سامان آیا ہے لیکن ابھی تک کمیٹی کے حوالے نہیں کیا ہے۔ اسی طرح شہر سے باہر ایک کیمپ بنانے کی تجویز ہے لیکن ابھی تک اس پر کام شروع نہیں ہوا ہے۔

جنوبی وزیرستان سے پہنچنے والے متاثرین کی وجہ سے ڈیرہ اسماعیل خان میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ بعض لوگوں نے اخباری بیانات میں کہا ہے کہ ان لوگوں کی آمد سے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اس بارے میں محسود امن کمیٹی نے کہا کہ محسود قبائل پُرامن اور شریف شہری ہیں۔لسانی بنیاد پر اخباری بیانات ملک اور قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ تین دنوں سے فائربندی ہےلیکن نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

اسی بارے میں
جنوبی وزیرستان میں جھڑپیں
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد