جنوبی وزیرستان: دو دن سے خاموشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دو دن سے خاموشی ہے۔ جنوبی وزیرستان سے سینیٹر صالح شاہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں حکومت اور بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان فائربندی ہوئی ہے۔ لیکن مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے علاقے میں کسی قسم کی فائر بندی نہیں ہے بلکہ فوج علاقے میں مزید پیش قدمی کے لیے تیاریوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب علاقہ محسود سے نہ ختم ہونے والا نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ فوج کی جانب سے بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے خلاف جاری کارروائی میں گزشتہ دو دنوں سے توپخانے کا استعمال بند ہوگیا ہے اور ایک دوسرے پر حملے بھی نہیں ہوئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے سینیٹر صالح شاہ کا کہنا ہے کہ علاقہ محسود میں حکومت اور بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان فائربندی ہوئی ہے۔ تاہم مذاکرات کا سلسلہ کب شروع ہوگا؟ مذکرات میں کون لوگ شامل ہیں؟ کسی کو علم نہیں ہے۔ دوسری جانب مقامی انتظامیہ کے مطابق علاقہ محسود میں فائر بندی نہیں ہے۔ بلکہ فوج علاقے میں مزید پیش قدمی کے لیے اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق فائربندی کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ بیت اللہ محسود کے خلاف کاروائی بند ہوگئی ہیں۔ اس کے علاوہ علاقہ محسود سے نہ ختم ہونے والا نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ شمالی وزیرستان اور ضلع ٹانک کے علاوہ ایک بڑی تعداد میں متاثرین کا ڈیرہ اسماعیل خان آنا شروع ہوگیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد محسود قبائل نے دو مقامات پر امدادی کیمپ لگائے ہیں جہاں پر متاثرین کو صرف آٹا دیا جاتا ہے۔ کیمپ کے سامنے موجود سینکڑوں متاثرین میں سے ایک حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ آٹھ دن ہوگئے ہیں کہ وہ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے ہیں۔ لیکن ان کے رہائش کا کوئی انتظام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اب محسود کمیٹی کی جانب سے آٹا مل رہا ہے۔انہوں نے آٹے کو غنیمت سمجھا اور بتایا کہ اب بچوں کے کھانے کا انتظام ہوگیا اور رہائش کے انتظام کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہا ہوں۔ تاج علی خان نے بتایا کہ وہ چار بھائی ہیں ان کے سارے خاندان والے سینتالیس افراد ہیں۔ان کو شہر کے قریب کرایہ پر دو کمرے ملے ہیں۔ وہ چالیس گھنٹے سفر کرکے یہاں پہنچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینتالیس افراد کے لیے ان کو صرف بیس کلو آٹے کا ایک تھیلا ملا ہے۔ان کے مطابق یہ تھیلا محسود کمیٹی کی جانب سے ملا ہے۔حکومت کی طرف سے ایک ٹکے کی امداد بھی نہیں ملی ہے۔ ایک ساٹھ سالہ بخت الدین نے بتایا کہ ان کے بچے بیمار ہے ان کے دوائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ وہ سخت سردی میں رہتے ہیں۔ان کو صرف ایک کمرہ ملا ہے اور ایک وقت کا کھانا ملتا ہے۔انہوں حکومت سے اپیل کی کہ ان کے بیمار بچوں کے لیے کوئی انتظام کیا جائے۔ محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے اور متاثرین کیمپ کے انچارج ریٹائرڈ چیف سیکریٹری سنگی مرجان سے امدادی کیمپ کے انتظام کے حوالے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ محسود قبائل نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کیمپ لگائے ہیں۔ وزیر قبائل اور دوسرے لوگ بھی امداد دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ باقاعدہ لوگوں کی رجسٹریشن کرتے ہیں۔جس کے لیے ایک بڑی کمیٹی اور تین چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں اور زیادہ تر اس میں کالج کے طلباء ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک ایک ہزار خاندان یعنی دس ہزار لوگ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف نقد اعلانات کے سوا کوئی امدادی کیمپ نہیں ہے۔ | اسی بارے میں وزیرستان جھڑپیں دوبارہ شروع12 October, 2007 | پاکستان وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان حملہ16 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: سکاؤٹس قلعہ پرطالبان قابض16 January, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان میں متعدد ہلاکتیں24 January, 2008 | پاکستان وزیرستان: ہلاکتوں کے متضاد دعوے24 January, 2008 | پاکستان سکاؤٹس قلعوں پر طالبان کے حملے30 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||