قبائل کو طالبان کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی طالبان کی ایک تنظیم نے امریکی وزرات خارجہ کے اہم اہلکاروں کی قبائلی مشران سے ملاقاتوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ آئندہ اگر قبائلی مشران نے امریکی حکام سے ملاقات کی کوشش کی تو نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہونگے۔ جمعرات کو تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام پاکستان میں مبینہ مداخلت تو پہلے ہی سے کرتے آئے ہیں لیکن اب انہوں نے قبائلی علاقوں میں بھی براہ راست دخل اندازی شروع کر دی ہے اور گزشتہ روز خیبر ایجنسی میں امریکی حکام کی قبائلی مشران سے ملاقاتیں اس کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق ’امریکہ ایک عالمی دہشت گرد ہے اور وہ اب قبائلی علاقوں میں بھی قوم سے قوم کو لڑانا چاہتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ قبائلیوں کو امریکیوں کی منصوبہ بندی اور سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے بلکہ ان سے دور رہنا چاہیے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ ’اگر آئندہ کسی قبائلی نے امریکیوں سے مذاکرات یا ملاقات کی کوشش کی تو وہ امریکیوں کا ساتھی تصور کیا جائے گا اور نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔‘ ترجمان نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے قبائلی مشران کو اس طرح استعمال کرنے کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جس طرح اس ملک کے اندر مبینہ براہ راست مداخلت کر رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ اس ملک میں امن قائم رہے۔ مولوی عمر نے نئی بننے والی حکومت کی طرف سے امریکہ کی دہشت گردی سے متعلق پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینے کو خوش آئندہ قرار دیا اور کہا کہ طالبان نے شروع دن سے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنی والی تمام جماعتوں کا خیر مقدم کیا تھا اور آئندہ بھی ان کی اچھی پالیسیوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے نے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کا دورہ کیا تھا اور قبائلی مشران سے علاقے میں امن وامان اور دیگر معماملات پر بات چیت کی تھی۔ |
اسی بارے میں ’پالیسی پارلیمنٹ بنائے گی‘26 March, 2008 | پاکستان امریکیوں کی ملاقاتیں جاری26 March, 2008 | پاکستان پاک امریکہ مذاکرات کی بحالی26 March, 2008 | پاکستان امریکی اہلکار کراچی پہنچ گئے27 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||