BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک امریکہ مذاکرات کی بحالی

دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق (فائل فوٹو)
دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق (فائل فوٹو)
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے دورے پر آئے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران نے پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی فوری بحالی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کے روز دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں صحافیوں نے جان نیگروپونٹے اور رچرڈ باؤچر کی پاکستانی راہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں اور انکے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ممکنہ اثرات جاننے کے لیے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق سے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی عہدیداروں کا دورہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت ہونے کے باوجود ہرطرف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسران اکتوبر میں آخری بار پاکستان آئے تھے اور خطے میں امریکی مفادات کے پیش نظر اب ان کا پاکستان آنا قطعی طور پر ایک معمول کی کارروائی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی دفتر خارجہ کے ان افسران کی پاکستان آمد کو ابتدائی طور پر اچانک اور پہلے سے طے شدہ پروگرام سے ہٹ کر قرار دیا گیا تھا۔

تاہم آج کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام نے دیگر اعلی حکومتی عہدیداروں کے علاوہ سیکرٹری خارجہ ریاض محمد خان سے بھی ملاقات کی جس میں پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی جلد بحالی پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ’امریکہ نے پاک امریکہ سٹریٹجک مذاکرات کی فوری بحالی کی خواہش کا اظہار کیا جس پر ہمارے سیکرٹری خارجہ نے تجویز کیا ہے کہ یہ مذاکرات جون میں منعقد کئے جا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ اس ملاقات میں پاک بھارت مذاکرات، افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، اور قبائلی علاقوں میں ترقیاتی پروگرامز کے علاوہ امریکہ کے ساتھ دفاع اور دیگر شعبوں میں تعاون بھی زیر غور آیا ہے۔‘

اس سوال پر کہ کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور بالخصوص قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر غور کر رہا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ پالیسی بنانے اور تبدیل کرنے کا حق پارلیمنٹ اور حکومت وقت کے پاس ہے جس میں خارجہ پالیسی بھی شامل ہے اور وہ اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے بارے میں دفتر خارجہ کو ابھی تک کوئی ہدایات نہیں موصول ہوئیں اور اس بارے میں انہوں نے منتخب وزیراعظم کی تقریر میں ذکر سنا تھا جو ظاہر ہے کہ نئی حکومت کی پالیسی کا حصہ ہے۔

پالیسی بنانے کا حق پارلیمنٹ کا
 اس سوال پر کہ کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور بالخصوص قبائلی علاقوں میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر غور کر رہا ہے، ترجمان کا کہنا تھا کہ پالیسی بنانے اور تبدیل کرنے کا حق پارلیمنٹ اور حکومت وقت کے پاس ہے جس میں خارجہ پالیسی بھی شامل ہے اور وہ اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اب جبکہ نئی حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے تو ایمرجنسی کے نفاذ کے پس منظر میں دولت مشترکہ کی جانب سے پاکستان کی رکنیت کے حوالے سے کئے گئے منفی فیصلے از خود واپس لے لئے جائیں گے اور اسکے لئے پاکستان کو باقاعدہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

کیوبا میں قائم امریکی جیل گوانتانامو بے کے سابق انچارج امریکی جنرل جے ہوڈ کی پاکستان میں تقرری کے حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اس بارے میں انہیں ابھی تک کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی ہے تاہم دفتر خارجہ اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ محمد صادق نے بتایا کہ کوئٹہ اور مشہد کے درمیان پاک ایران بس سروس بائیس اپریل سے شروع کی جار ہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد