امریکیوں کی ملاقاتیں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے اور اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ رچرڈ باوچر کی پاکستان میں سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے اور توقع ہے کہ وہ بدھ کو نو منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کریں گے۔ امریکہ وزارتِ خارجہ کے دو اعلیٰ اہلکاروں کی وزیر اعظم کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ دونوں اہلکاروں نے بدھ کی صبح قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل کے فوجی علاقے میں مقامی عمائدین سے امن عامہ کی بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بات کی۔ بعد میں انہوں نے گورنر سرحد سے بھی پشاور میں ملاقات کی۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ اس کی وجہ پارٹی ذرائع کے مطابق اسفندیار ولی کا امریکی کونصلیٹ جانے سے انکار جبکہ امریکی اہلکاروں کے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پارٹی دفتر نہ جانا ہے۔ یاد رہے ان دنوں پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن بھی اسلام آباد میں موجود نہیں اور چھٹیوں پر ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان کے غیر اعلانیہ دورے کے پہلے دن ان امریکی اہلکاروں نے صدر پرویز مشرف اور سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری اور چیئرمین بلال بھٹو زرداری، نئے متوقع وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے موقع پر دو اعلیٰ امریکی اہلکاروں کی اسلام آباد میں سرگرمیوں کو عوامی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز ان کی آمد کے پہلے دن سول سوسائٹی کی چند تنظیموں نے اسلام آباد میں ان کے دورے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔
درین اثناء امریکی صدر جارج بش نے ٹیلیفون کے ذریعے وزیر اعظم کا حلف لینے کے چند گھنٹوں بعد ہی یوسف رضا گیلانی کو مبارک باد اور امریکہ دورے کی دعوت دی ہے۔ صدر بش سے فون پر گفتگو کے دوران نئے وزیر اعظم نے انہیں یقین دلایا کہ پاکستان اپنے مفاد میں دہشت گردی کا مقابلہ کرے گا لیکن اس کے لیئے ایک جامع طریقہ کار درکار ہوگا۔ نئے حکمراں اتحاد سے تو بظاہر امریکیوں کو کوئی خاص اور واضع یقین دہانی نہیں ملی تاہم ان کی ایک اہم ملاقات ایوان صدر میں صدر پرویز مشرف سے تھی جس میں صدر نے انہیں تسلی دی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک جامع پالیسی پر عمل پیرا رہے گا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ امریکی اہلکار بغیر کسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے پیر کی رات گئے اسلام آباد پہنچے تھے۔ ان اہلکاروں کے پہنچنے کے بعد بھی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں منگل کی صبح تک ان اہلکاروں کی مصروفیات کا کوئی علم نہیں تھا۔ ان کا البتہ کہنا تھا کہ اس دورے میں یہ امریکی اہلکار ’سیاسی قیادت‘ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ادھر اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی ترجمان کے میفیلڈ نے بتایا کہ یہ اعلی اہلکار حکومت کے اندر اور باہر کے لوگوں سے ملیں گے جن میں سول سوسائٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔ تاہم نئی حکومت کی کلیدی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں واضح کر دیا کہ نئی پارلیمان دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق پاکستانی پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے گی۔
اخباری اطلاعات کے مطابق مغربی دنیا خصوصاً امریکہ کو پاکستان میں نئی حکومت کے قیام سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ دو اعلی ترین اہلکاروں کی بغیر کسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے آمد سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے۔ نئی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ شدت پسندوں سے فوجی کارروائیوں کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ مبصرین کے خیال میں امریکہ کو ایک اور تشویش صدر پرویز مشرف کے سیاسی طور پر اکیلے ہونے پر بھی ہے۔ امریکہ صدر مشرف پہلے دن سے بڑا حامی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حلیف رہے ہیں۔ امریکی اہلکار نئی حکومت سے اس بابت یقین دہانی حاصل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ بعض مبصرین کے مطابق امریکہ ایک جوہری مسلم ملک میں مزید سیاسی انتشار بھی نہیں چاہتا۔ امریکی سفارت خانے کی ترجمان کے میفیلڈ نے بتایا کہ دونوں امریکی اہلکار جعمرات کو اپنے دورے کے اختتام پر کراچی میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں کے انتہائی مصروف پروگرام کی وجہ سے وہ صحافیوں سے علحیدہ علیحدہ نہیں مل پائیں گے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||