BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 March, 2008, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کی پالیسی کا جائزہ لیں گے‘

 نواز شریف، فائل فوٹو
نواز شریف نے پرویز مشرف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں محمد نواز شریف نے امریکی حکام سے کہا ہے کہ دہشت گردی سے متعلق صدر مشرف کی پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

بقول ان کے مذکورہ کمیٹی تمام متعلقہ افراد کی رائے سے سفارشات مرتب کرے گی۔

اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےنواز شریف نے کہا کہ نائب امریکی وزیر خارجہ جان نگروپونٹے اور جنوبی ایشیا کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری رچرڈ باؤچر سے ملاقات میں انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کے بعد جو فیصلے فرد واحد کر رہا تھا وہ اب ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ’ایک فرد واحد نے اس مسئلہ کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا جس کے سبب اسے عوامی تائید حاصل نہیں ہوسکی، اب اس فرد واحد کو یہ اختیار نہیں رہا کہ وہ بنیادی فیصلے کرے، ہر مسئلہ پارلیمان کے سامنے آئےگا، اس کے اراکین اب ہر پہلو کا جائزہ لیں گے۔‘

انہوں نے اعلان کیا کہ دہشت گردی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تمام متعلقہ افراد کا نکتہ نظر معلوم کرے گی، عالمی خدشات کا جائزہ لے گی اور ایوان کے سامنے سفارشات پیش کرے گی۔ ان کا موقف تھا کہ جب امریکہ اپنے ملک کو دہشت گردی سے پاک رکھنا چاہتا ہے تو ان کی بھی خواہش ہے کہ پاکستان قتل گاہ نہ بنے، یہاں بم نہ گرائے جائیں اور یہ امن کا گہوارہ بنے۔

 ’اختیارات تو ایل ایف او، سترویں ترمیم، ایمرجنسی، پی سی او اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے بکس میں بند ہیں لیکن بدامنی، بم دھماکے، خودکش حملے، منہگائی، بےروزگاری، بجلی، آٹے اور گیس کے بحران اور بیالیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضے، اٹھائیس سو ارب روپے کے اندرونی قرضے، بگڑا ہوا آئین، ٹوٹی ہوئی عدلیہ اور تباہ حال ادارے نئی حکومت کو ٹرانسفر کیے جاچکے ہیں۔
نواز شریف

صدر مشرف کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر ان کے لیے یہی مشورہ ہے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔’ اس میں پاکستان، جمہوریت اور عوام کا مفاد ہے، وہ نئی پارلیمان کے کندھوں پر بوجھ نہ بنیں تاکہ جمہوریت کا ایک ہموار سفر شروع ہو۔‘

اسٹیبلشمنٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اب صدارتی ایوان میں بیٹھی ہے۔’ ایک طرف ان کے طارق عزیز اور دوسری جانب راشد قریشی بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں پارلیمان، نہ انتظامیہ، نہ پولیس اور نہ ہی عوام ان کے ساتھ ہیں۔‘

پارلیمان میں مواخذے کی کارروائی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر صدر خود نہیں جاتے تو پھر ان کے لیے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا۔’اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو چلا جاتا۔‘

نئے وزیر اعظم اور اراکین قومی اسمبلی کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی اقتدار نہیں بلکہ تبدیلی مسائل ہے۔ ’اختیارات تو ایل ایف او، سترویں ترمیم، ایمرجنسی، پی سی او اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے بکس میں بند ہیں لیکن بدامنی، بم دھماکے، خودکش حملے، منہگائی، بےروزگاری، بجلی، آٹے اور گیس کے بحران اور بیالیس ارب ڈالر کے بیرونی قرضے، اٹھائیس سو ارب روپے کے اندرونی قرضے، بگڑا ہوا آئین، ٹوٹی ہوئی عدلیہ اور تباہ حال ادارے نئی حکومت کو ٹرانسفر کیے جاچکے ہیں۔‘

اسحاق ڈار، راجہ ظفر الحق اور احسن اقبال کی موجودگی میں نواز شریف نے کہا کہ وہ یہ چیلنج قبول کرتے ہیں اور عوام کی مدد سے اس پر قابو پائیں گے۔ انہوں نے ججوں کی رہائی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شرمناک ڈرامے اور کھیل میں ملوث تمام کرداروں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے اعلان مری اور میثاق جمہوریت کی ایک ایک شق پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ آئین میں ترامیم کے لیے صدارتی کیمپ کے موقف کہ نئی حکومت کو دو تہائی اکثریت چاہیے ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ نئی پارلیمان تین نومبر کے پی سی او کو ہی مسترد کر دے۔

اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
حکومت سازی کی مشکلات
29 February, 2008 | پاکستان
مل کر حکومت بنائیں گے
21 February, 2008 | پاکستان
صدر کے استعفے کا مطالبہ
25 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد